آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے انتظامات مکمل، مشہد میں لاکھوں سوگواروں کی آمد
مشہد: (دنیا نیوز) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ مشہد کی سڑکوں پر سوگواروں کا بڑا ہجوم جمع ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کو امام علی رضاؑ کے روضۂ اقدس کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا، جہاں تدفین کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مشہد میں اس وقت 27 ملکوں سے 4 لاکھ 70 ہزار غیر ملکی مہمان موجود ہیں۔
قبل ازیں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا عراق میں تعزیتی جلوس نکالا گیا، نجف میں روضہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نماز جنازہ ادا کی گئی۔
اس کے بعد شہید آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی تاریخی جلوس کے ذریعے کربلا لایا گیا، جہاں لاکھوں سوگوار جمع تھے۔
ادھرایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کے باوجود جنازے کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جنازے کا پہلا مرحلہ تہران میں منعقد ہوا، اس کے بعد اگلے روز قم میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، پھر میت کو عراق کے شہروں کربلا اور نجف لے جایا گیا۔
حکام نے بتایا کہ امریکی حملے میں تہران اور مشہد کے درمیان ریلوے رابطہ متاثر ہونے سے جنازے کے پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
خیال رہے کہ منصوبے کے مطابق جنازے کے آخری مرحلے اور تدفین کی تقریب آج صبح مقامی وقت کے مطابق 6 بجے ہونا تھی، تاہم اب اسے 8 گھنٹے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس تاخیر کی وجہ امریکی حملے نہیں بلکہ بدھ کے روز عراق میں غیر معمولی ہجوم ہے، جس کی وجہ سے جنازے کے شیڈول میں تاخیر ہوئی۔
واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے تھے، جس کے بعد ایران اور خطے بھر میں تعزیتی تقریبات اور سوگ کا سلسلہ جاری ہے۔