غزہ کیساتھ شام اور لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے

غزہ  کیساتھ  شام  اور  لبنان  پر  اسرائیلی  فضائی  حملے

غزہ ،بیروت(اے ایف پی ،رائٹرز )غزہ کیساتھ شام اور لبنان پر بھی اسرائیل نے فضائی حملے شروع کر دئیے ،اسرائیل کی جانب سے 7 روزہ عارضی جنگ بندی کے بعد غزہ پر دوبارہ بمباری سے شہدا کی تعداد 240 سے متجاوز ہو گئی ۔۔۔

جبکہ 600 سے زائد افراد زخمی ہیں ،صیہونی فورسز نے خان یونس اور رفح سمیت مختلف علاقوں میں بمباری کے علاوہ فلسطینیوں کی امداد بھی بند کردی،اسرائیل نے جنگ کا دائرہ خطے میں پھیلانے کی کوشش کرتے ہوئے شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقے اور لبنانی سرحد پر بھی حملے کردئیے ۔ روس کا کہنا تھا کہ دمشق پر اسرائیلی حملہ شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی اورعالمی قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ادھر غزہ پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں حماس نے بھی اسرائیلی شہروں پردرجنوں راکٹ فائر کیے ۔ اسرائیلی افواج کے حملے میں 3 لبنانی شہری شہید ہوگئے ،دمشق کے قریب ایران نواز گروپ کے ٹھکانوں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں حزب اللہ کے 2 کارکن شہید ، سات زخمی ہو گئے ۔ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے 2 شہید افراد کو اپنے ارکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں شام میں ایڈوائزری مشن پر تھے ۔علاوہ ازیں شمالی غزہ کے شہر الفالوجہ پر اسرائیلی بمباری میں معروف فلسطینی سائنسدان اہل خانہ سمیت شہید ہو گئے ۔

غزہ کی وزارت اعلیٰ تعلیم نے کہا کہ شہید ڈاکٹر سفیان طاہیہ غزہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور شعبہ فزکس کے ریسرچر تھے ۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے غزہ میں 400 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جنگی طیاروں نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں 50 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کی آرمرڈ بریگیڈ نے بھی حماس کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی۔ادھر اسرائیلی افواج نے حملے کرکے اپنے ہی یرغمالی شہریوں کو قتل کردیا، اسرائیل نے حماس کی قید میں موجود 6 یرغمالیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔دریں اثنابفرزون بنانے کی آڑ میں اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ پر قبضے کی بھی کوشش شروع کردی گئی ہیں، اسرائیل کا کہنا ہے کہ عرب ممالک کو غزہ میں بفرزون بنانے کے منصوبے سے آگاہ کردیا ۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے غزہ کو بچوں کیلئے دنیا کا خطرناک ترین مقام قرار دیا ہے ۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا اسرائیل اور فلسطین کے بچے امن اور بہتر مستقبل کے حق دار ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق عبوری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے تازہ حملوں سے شہدا کی تعداد 15 ہزار 207 ہو گئی ہے جبکہ 40 ہزار سے زائد زخمی ہیں ۔ان کا کہنا تھاکہ اسرائیل نے جان بوجھ کر 130 طبی اداروں کو نشانہ بنایا جس سے 20 ہسپتال سروس سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ غزہ میں طبی عملے کے 280 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ ترکش ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر طیب اردوان نے واشنگٹن پر واضح کیا کہ ترکیہ حماس کو دہشتگرد تنظیم خیال نہیں کرتا ، حماس سیاسی جماعت ہے جس نے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئی۔ادھر اسرائیل نے حماس کیساتھ جنگ بندی کیلئے قطر میں جاری مذاکرات منسوخ کر دئیے ، خفیہ ایجنسی موساد کی مذاکراتی ٹیم کو فوری ملک واپس پہنچنے کا حکم دے دیا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں