نکولس مادورو :بس ڈرائیور ، ملک کا صدر اور۔۔۔اب امریکا کا قیدی

نکولس مادورو :بس ڈرائیور ، ملک کا صدر اور۔۔۔اب امریکا کا قیدی

امریکا سب سے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی چاہتا ،مادوروکونشانے پر رکھا سر کی قیمت 5کروڑ ڈالر لگائی ، فرار کی پیشکش کی ،مادوروپیچھے ہٹنے لگے تھے 2024 کے صدارتی انتخابات میں مادورو کوشکست ہوئی مگر اقتدار سے چمٹے رہے امریکا وینزویلا میں قیادت کے خاتمے کی مشقیں پہلے ہی کرچکا ،خانہ جنگی کے منظر نامے

 کاراکاس (مانیٹرنگ نیوز )جمعہ کی رات امریکا نے وینزویلا کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے ، جن کے نتیجے میں دارالحکومت کاراکاس میں علی الصبح زور دار دھماکے سنائی  دئیے ۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے ۔امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے کہا کہ ان دونوں پر نیویارک میں مقدمہ چلایا جائے گا، جو 2020 کی ایک فردِ جرم پر مبنی ہوگا، جس میں ان پر منشیات سے متعلق دہشت گردی (نارکو ٹیررازم) میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تصویر شائع کی، جس کے کیپشن میں لکھا تھا:نکولس مادورو یو ایس ایس آئیوو جیما پر سوار ہیں۔برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق وینزویلا کے حکام نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

آپریشن کے چند گھنٹے بعد فاکس نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آئندہ وینزویلا کی تیل کی صنعت میں مضبوط انداز میں شاملرہے گا۔ دوسری مدتِ صدارت سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ نے صدر نکولس مادورو کو براہِ راست اپنے نشانے پر رکھا اور وینزویلا کی حکومت کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ (میکسیمم پریشر) کی پالیسی اپنائی۔ ٹرمپ نے مادورو پر امریکا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، جن میں منشیات کی سمگلنگ اور امریکا کی طرف غیر قانونی ہجرت شامل ہے ۔جولائی میں امریکا نے مادورو کے سر کی قیمت 5 کروڑ ڈالر (37 ملین پاؤنڈ)مقرر کرنے کا اعلان کیا، اور ان پر دنیا کے سب سے بڑے منشیات سمگلروں میں سے ایک ہونے کا الزام عائد کیا۔ٹرمپ نے کھلے عام وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کے خیال کو بھی ہوا دی۔

نومبر کے اواخر میں انہوں نے مادورو کو اقتدار چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا اور انہیں ملک سے محفوظ راستہ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ مادورو نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور وینزویلا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ غلامی والا امن نہیں چاہتے ، اور امریکا پر الزام لگایا کہ وہ ان کے ملک کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول چاہتا ہے ۔جیسے جیسے ٹرمپ انتظامیہ نے دباؤ میں اضافہ کیا، کاراکاس کی حکومت بعض اوقات الجھن کا شکار نظر آئی۔ مادورو بار بار کہتے رہے کہ وینزویلا امریکا کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ ایک موقع پر انہوں نے وینزویلا کے طلبہ کے سامنے نو وار، یس پیس (جنگ نہیں، امن ہاں)کے بول پر رقص کیا اور ٹرمپ کے مشہور دو مُکّوں والے ڈانس کے انداز کی نقل بھی کی۔ اپنی گرفتاری سے دو دن قبل، جمعرات کو، مادورو نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ وہ وینزویلا کے تیل کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے۔

امریکا اور وینزویلا کے تعلقات 1999 میں ہیوگو شاویز کے صدر بننے کے بعد سے کشیدہ ہیں۔ اگرچہ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں کبھی کبھار معمولی بہتری آئی، لیکن مجموعی طور پر تعلقات بگڑتے ہی رہے ، خاص طور پر 2013 میں مادورو کے اقتدار میں آنے کے بعد۔ٹرمپ انتظامیہ کے دوران امریکا نے مادورو حکومت کو غیر قانونی قرار دیا اور 2019 میں پارلیمنٹ کے سپیکر خوان گوائیڈو کو وینزویلا کا صدر تسلیم کیا۔جولائی 2024 میں صدارتی انتخابات کے دوران مادورو کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا، جب ان کی بڑھتی ہوئی آمرانہ حکمرانی اور وینزویلا کی معاشی تباہی کے خلاف عوامی غصہ عروج پر تھا۔ بائیڈن انتظامیہ نے حزبِ اختلاف کے امیدوار ایڈمونڈو گونزالیز کو فاتح تسلیم کیا۔ حزبِ اختلاف کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی انتخابی اعداد و شمار، جن کی آزاد ماہرین نے تصدیق کی، سے ظاہر ہوا کہ گونزالیز نے ووٹ جیتے تھے ، تاہم مادورو نے شدید کریک ڈاؤن شروع کر کے اقتدار سے چمٹے رہنے کا فیصلہ کیا۔دسمبر کے اوائل میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک پالیسی دستاویز شائع کی۔

اس میں کہا گیا کہ مغربی نصف کرے (ویسٹرن ہیمسفیئر) پر سیاسی، معاشی، تجارتی اور فوجی طور پر امریکا کا کنٹرول ہونا چاہیے ۔ اس نئی ٹرمپ پالیسی کے تحت امریکا اپنی فوج کو خطے میں توانائی اور معدنی وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے ۔نکولس مادورو 2013 سے وینزویلا کے صدر ہیں۔وہ ایک سابق بس ڈرائیور ہیں ، مادورو ہیوگو شاویز کے دور میں نمایاں ہوئے اور ان کے وزیرِ خارجہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ شاویز کی وفات کے بعد وہ وینزویلا کے صدر بنے ۔مادورو کی حکمرانی کو آمرانہ سمجھا جاتا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق 2019 تک وینزویلا میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ۔ مادورو کے دور میں عدلیہ جیسے اہم ادارے کمزور ہو گئے اور قانون کی حکمرانی کو شدید نقصان پہنچا۔ ان کے اقتدار میں امریکا کے ساتھ تعلقات بھی مزید خراب ہوتے چلے گئے۔

حالیہ مہینوں میں ٹرمپ بار بار مادورو کو اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور ان پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ منشیات اور جرائم پیشہ افراد کو امریکا بھیج رہے ہیں-ایک ایسا دعویٰ جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے شواہد موجود نہیں۔ سخت بیانات اور دباؤ میں اضافے کے باوجود، ہفتے کے روز ایک موجودہ صدر کی گرفتاری بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہوئی، اور ایسا لگتا ہے کہ وینزویلا کے حکام اس جری اور غیر معمولی کارروائی کے لیے تیار نہیں تھے ۔مستقبل غیر یقینی ہے ۔ وینزویلا کے وزیرِ دفاع نے لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ملکی جارحیت کے خلاف متحد ہو جائیں، جبکہ امریکا کے خلاف مزاحمت کو آزادی کی جدوجہد قرار دیا ہے ۔جو بات واضح ہے وہ یہ کہ امریکا آئندہ وینزویلا میں بڑا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے ، چاہے وہ فوجی طاقت کے استعمال کے ذریعے ہو یا کسی اور طریقے سے ۔امریکا ماضی میں ایسی جنگی مشقیں بھی کر چکا ہے جن میں وینزویلا کی قیادت کے خاتمے کی نقل کی گئی تھی۔ ان مشقوں کے نتائج کے مطابق طویل عرصے تک افراتفری رہنے کا امکان تھا، جس میں وینزویلا سے مہاجرین کی بڑی تعداد ملک چھوڑتی اور مختلف گروہ اقتدار کے لیے آپس میں لڑتے ہیں ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں