وینزویلا کے صدر بھاگے ، کمرے کا دروازہ بند نہ کرسکے

وینزویلا کے صدر بھاگے ، کمرے کا دروازہ بند نہ کرسکے

سی آئی اے نے مادورو کے قریبی حلقے میں اپنا ایجنٹ داخل کیا ، جو نقل و حرکت پر نظر رکھتا ٹرمپ نے 4 دن قبل کارروائی کی منظوری دی، انہیں بہتر موسم کے انتظار کا مشورہ دیاگیا ڈیلٹا فورس نے مادورو کی محفوظ رہائش گاہ کے مشابہ عمارت تیار کی ، اس پر مشق ہوتی رہی ٹرمپ کی ٹیم کئی ماہ سے اس آپریشن کیلئے روزانہ بات چیت اور ملاقاتوں میں مصروف رہی

واشنگٹن (رائٹرز)وینزویلا میں امریکی کارروائی بظاہر اچانک معلوم ہوئی، تاہم معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق سب سے پیچیدہ آپریشنز میں سے ایک کی  منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی، جس میں تفصیلی مشقیں بھی شامل تھیں۔امریکی فوج کے ایلیٹ دستوں، جن میں آرمی کی ڈیلٹا فورس بھی شامل تھی، نے مادورو کی محفوظ رہائش گاہ کے مشابہ عمارت تیار کی ہوئی تھی اور اس میں داخل ہونے کی مشق کرتے رہے ۔معاملے سے واقف ایک ذریعے کے مطابق سی آئی اے نے اگست سے موقع پر ایک چھوٹی ٹیم تعینات کر رکھی تھی، جو مادورو کی روزمرہ نقل و حرکت اور معمولات کے بارے میں معلومات فراہم کر رہی تھی، جس سے انہیں گرفتار کرنا نسبتاً آسان ہو گیا۔دو دیگر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس مادورو کے قریبی حلقے میں موجود ایک ذریعہ بھی تھا، جو ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا تھا اور آپریشن کے دوران عین مقام کی نشاندہی کے لیے تیار تھا۔تمام انتظامات مکمل ہونے کے بعد ٹرمپ نے چار دن قبل اس کارروائی کی منظوری دی، تاہم فوجی اور انٹیلی جنس منصوبہ سازوں نے انہیں بہتر موسم اور کم بادلوں کے انتظار کا مشورہ دیا۔

جمعے کی رات 10 بج کر 46 منٹ (ای ایس ٹی) پر ٹرمپ نے اس آپریشن کے لیے حتمی اجازت دی، جسے بعد میں آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو کا نام دیا گیا۔ پینٹاگون نے کیریبین میں فوجی طاقت کے بڑے پیمانے پر اضافے کی نگرانی کی ، جس کے تحت ایک طیارہ بردار بحری جہاز، 11 جنگی جہاز اور ایک درجن سے زائد ایف-35 طیارے روانہ کیے گئے ۔ مجموعی طور پر 15 ہزار سے زیادہ فوجی اس خطے میں تعینات کیے گئے ، جسے امریکی حکام طویل عرصے سے منشیات کے خلاف کارروائیوں کا حصہ قرار دیتے آئے ہیں۔ذرائع میں سے ایک کے مطابق ٹرمپ کے سینئر معاون اسٹیفن ملر، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف پر مشتمل ایک مرکزی ٹیم کئی ماہ تک اس معاملے پر کام کرتی رہی، جس کے دوران باقاعدہ ،بعض اوقات روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتیں اور فون کالز ہوتی رہیں۔ یہ ٹیم اکثر صدر کے ساتھ بھی ملاقات کرتی تھی۔جمعے کی رات دیر گئے اور ہفتے کی صبح تک ٹرمپ اور ان کے مشیران نے اجلاس کیا۔

جب متعدد امریکی طیارے روانہ ہوئے اور کاراکاس کے اندر اور قریب اہداف پر حملے کیے ، جن میں فضائی دفاعی نظام بھی شامل تھے ۔حملوں کے دوران امریکی اسپیشل فورسز بھاری اسلحے کے ساتھ کاراکاس میں داخل ہوئیں، جن کے پاس مادورو کے مقام پر اسٹیل کے دروازے کاٹنے کے لیے بلو ٹارچ (Blowtorch) بھی موجود تھا۔جب فوجی محفوظ رہائش گاہ کے اندر پہنچے تو مادورو اور ان کی اہلیہ نے سر نڈر کر دیا ۔ وینزویلا کے صدر نے بھاگ کر ایک محفوظ کمرے تک پہنچنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ دروازہ بند کرنے میں ناکام رہے ۔ٹرمپ نے کہا انہیں اتنی تیزی سے گھیر لیا گیا کہ وہ اس میں داخل بھی نہیں ہو سکے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں