بھارت :مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کیخلاف نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ:امریکی ادارہ

بھارت :مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کیخلاف نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ:امریکی ادارہ

2025 ء میں 1ہزار318، 2024ء میں 1ہزار165اور 2023ء میں 668واقعات ہوئے :انڈیا ہیٹ لیب زیادہ ترنفرت انگیزی کے واقعات اُن ریاستوں ، وفاقی علاقوں میں ہوئے جہاں بی جے پی برسرِ اقتدار ہے :رپورٹ

واشنگٹن (رائٹرز)امریکا میں قائم ایک تحقیقی ادارے نے منگل کے روز کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں  سمیت اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں 2025ء کے دوران 13 فیصد اضافہ ہوا اور ان میں سے زیادہ تر واقعات ان ریاستوں میں پیش آئے جہاں وزیرِاعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی حکومت ہے ۔ادارے انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ کے مطابق 2025 ئمیں نفرت انگیز تقاریر کے 1ہزار318 واقعات ریکارڈ کئے گئے جو 2024 ئمیں 1ہزار165 اور 2023 ء میں 668 تھے ۔ یہ واقعات سیاسی جلسوں، مذہبی جلوسوں، احتجاجی مارچز اور ثقافتی تقریبات جیسے مواقع پر پیش آئے ۔اس مجموعی تعداد میں سے 1ہزار164 واقعات اُن بھارتی ریاستوں اور وفاقی علاقوں میں پیش آئے جہاں بی جے پی براہِ راست یا اتحادی جماعتوں کے ساتھ برسرِ اقتدار ہے ،اپریل میں ماہانہ بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا جب 158 واقعات ریکارڈ ہوئے ۔

ان میں سے تقریباً 100 واقعات اپریل اور مئی کے دوران پیش آئے جب مقبوضہ کشمیر میں ایک حملہ ہو ا ، پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی میں 2014 ئمیں نریندر مودی کے وزیرِاعظم بننے کے بعد اضافہ ہوا ،وہ اس کی مثالیں دیتے ہیں، جیسے مذہب کی بنیاد پر شہریت کا قانون، جسے اقوام متحدہ بنیادی طور پر امتیازی قرار دیتا ہے ،مذہب بدلنے کے خلاف قوانین جو عقیدے کی آزادی کو چیلنج کرتے ہیں،2019 میں مسلم اکثریتی کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی ملکیت والے مکانات کی مسماری ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں