غزہ کیلئے بورڈ آف پیس کی تشکیل ، عالمی رہنماؤں کو دعوت

غزہ کیلئے بورڈ آف پیس کی تشکیل ، عالمی رہنماؤں کو دعوت

3 بنیادی ادارے ہوں گے ،مرکزی بورڈ کی صدارت خود ٹرمپ کرینگے :وائٹ ہاؤس

واشنگٹن (اے ایف پی)امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے نام نہاد \"بورڈ آف پیس\"اور جنگ کے بعد غزہ کے لیے متعلقہ اداروں کی تشکیل شروع کر دی ہے ، اور کئی عالمی رہنماؤں نے ہفتے کو کہا کہ انہیں اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے ۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت تین بنیادی ادارے ہوں گے ،ایک مرکزی بورڈ جس کی صدارت خود ٹرمپ کریں گے ۔غزہ کے جنگ زدہ علاقے کی حکمرانی کے لیے ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی قائم کی گئی ہے ۔ایک دوسرا \"ایگزیکٹو بورڈ\"، جو زیادہ مشاورتی کردار ادا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔وائٹ ہاؤس نے ابتدائی ناموں کی فہرست جاری کی ہے اور کہا ہے کہ مزید افراد کو بعد میں شامل کیا جائے گا۔وائٹ ہاؤس کے مطابق بورڈ آف پیس حکمرانی کی صلاحیت سازی، علاقائی تعلقات، تعمیرِ نو، سرمایہ کاری کی ترغیب، بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور سرمایہ کی فراہمی کے امور پر کام کرے گا۔

بورڈ آف پیس کے ارکان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (سربراہ )امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو،ٹرمپ کے خصوصی مذاکرات کار اسٹیو وِٹکوف ،سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر،ٹرمپ کے دامادجیرڈ کشنر،امریکی ارب پتی سرمایہ کارمارک روون،ورلڈ بینک کے صدراجے بنگا ،ٹرمپ کے وفادار معاون رابرٹ گیبریل شامل ہوں گے ،غزہ انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوگی ،جن کا کام بنیادی عوامی خدمات کی بحالی،سول اداروں کی تعمیرِ نو اور روزمرہ زندگی میں استحکام لانا ہو گا،کمیٹی کے سربراہ سابق فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیرعلی شعث ہوں گے ،غزہ ایگزیکٹو بورڈ مؤثر حکمرانی اور بہترین خدمات فراہم کرنے میں مدد کرے گا تاکہ امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔

اس بورڈ کے ارکان میں اسٹیو وِٹکوف،جیرڈ کشنر،ٹونی بلیئر،مارک روون،بلغاریہ کے سفارت کار نکولائے ملادینوف،اقوامِ متحدہ کی غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی کوآرڈینیٹرسیگرِڈ کاگ،ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان،قطری سفارت کارعلی الثوادی، مصر کے انٹیلی جنس ادارے کے ڈائریکٹرجنرل حسن رشاد، اماراتی وزیرریئم الحشیمی، اسرائیلی ارب پتی یاکیر گبائی شامل ہوں گے ۔ جن عالمی رہنماؤں کو ٹرمپ نے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے ان میں البانیا کے وزیرِاعظم ایڈی راما،ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی،کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی،قبرص کے صدر نکوس کرسٹوڈولائیڈز،مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان شامل ہیں۔ اسرائیل نے ہفتے کو غزہ کے عبوری بورڈ کی تشکیل پر اعتراض کیا۔

وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے بیان میں کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگ نہیں اور اس کی پالیسی کے خلاف ہے ۔ انہوں نے وزارت خارجہ کو ہدایت دی کہ اس معاملے پر امریکی وزیر خارجہ سے رابطہ کرے ۔ فلسطینی اسلامی جہاد نے امن بورڈ کی تشکیل پر تنقید کی ہے اور کہا کہ یہ بورڈ اسرائیل کے مفاد میں کام کر رہا ہے ۔ گروپ کے بیان کے مطابق بورڈ کی تشکیل اسرائیلی معیار کے مطابق اور قبضے کے مفاد میں کی گئی، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس کی نیت پہلے سے طے شدہ منفی ہے اور یہ معاہدے کی شرائط کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالنے والا اقدام ہے ۔ اسلامی جہاد نے امن عمل پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے بورڈ کی قانونی اور سیاسی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں