احتجاج،500اہلکار،5ہزار مظاہرین ہلاک :ایرانی اہلکار
سپریم لیڈر پر حملہ ایران کیخلاف مکمل جنگ تصور کیا جائیگا:صدرمسعود پزشکیان ایران میں فسادات کے ذمہ دار امریکا ، اسرائیل ،ہدف رجیم چینج:امریکی پروفیسر
تہران(رائٹرز،دنیا مانیٹرنگ)ایران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد کم ازکم بھی 5ہزار ہے ، جن میں 500 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ ایک ایرانی اہلکار نے اتوار کو نام نہ بتانے کی شرط پر نیوز ایجنسی رائٹرز کو جانی نقصان
کے اعداد و شمار بتائے ۔اہلکار نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں اور خونریز بدامنی میں سب سے زیادہ جھڑپیں اور ہلاکتیں شمال مغربی ایران کے کرد نسلی آبادی والے علاقوں میں ہوئیں۔ اہلکار کے بقول ہلاکتوں کی اس تعداد کے بعد اموات کی حتمی تعداد میں مستقبل میں کوئی بہت بڑا اضافہ نہیں ہو گا۔دوسری جانب امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سیکس نے ایران میں ہوئے حالیہ فسادات کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا ۔پروفیسر جیفری سیکس کا کہنا تھا خریدا ہوا اور جانبدار مین سٹریم امریکی میڈیا بتاتا ہے کہ ایرانی حکومت نے معیشت پر کنٹرول کھو دیا ، یہ نہیں بتایا جاتا کہ دراصل ایرانی معیشت کو تباہ کرنے والا ہی امریکا ہے ۔
جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام پر ظلم کر رہی ہے ۔ امریکی پروفیسر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایرانی عوام کی زندگی کو جتنا ممکن ہو سکے بدتر بنائیں اور ہدف ایران میں رجیم چینج کرنا ہے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر خامنہ ای پر کسی بھی قسم کا حملہ ایران کے خلاف مکمل جنگ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے ایکس پر بیان میں کہا خامنہ ای پر حملہ پوری قوم سے جنگ کے مترادف ہے ۔ صدر کا یہ ردعمل ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران میں نئی قیادت کی بات کی تھی۔دوسری جانب ایران کی دوسری بڑی موبائل کمپنی ایران سیل کے چیف ایگزیکٹو علی رضا رفیعی کو حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ بند کرنے کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کے سبب برطرف کر دیا گیا۔رفیعی پر الزام ہے کہ انہوں نے بحران کے دوران انٹرنیٹ پابندی کے حکومتی احکامات کی تعمیل نہیں کی۔کمپنی کے 70لاکھ صارفین ہیں۔