ورلڈ اکنامک فورم اجلاس ، ایران کوشریک ہونے سے روکدیا
ایران میں سزائے موت ریاستی خوف کی علامت ہے : اقوام متحدہ مظاہرین کو 3دن میں سرنڈر کرنے پر کم سزا ہو گی:پولیس چیف
ڈیووس،تہران(اے ایف پی، دنیا مانیٹرنگ)عالمی اقتصادی فورم نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ڈیووس اجلاس میں شرکت کی دعوت واپس لے لی ہے ۔تنظیم نے ایکس پر اعلان کیا کہ ‘اگرچہ انھیں گز شتہ موسم خزاں میں اس میٹنگ میں مدعو کیا گیا تھا، لیکن حالیہ ہفتوں میں ایران میں شہریوں کی جانوں کے المناک نقصان نے ایرانی حکومت کے نمائندے کے لیے اس سال ڈیووس میں شرکت کو نامناسب بنا دیاہے ۔عباس عراقچی نے آج منگل کو ایک سیشن میں تقریر کرنا تھی اور وہ سوال و جواب کے سیشن میں بھی مہمان تھے جس کا عنوان تھا ‘ہم زیادہ تنازعات کا شکار دنیا میں کیسے تعاون کا رستہ اختیار کر سکتے ہیں؟۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایران سزائے موت کو ریاستی دباؤ اور خوف پھیلانے کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے ، 2025 میں عالمی سطح پر پھانسیوں میں تشویشناک اضافہ ہوا۔ انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کے مطابق ایران میں گزشتہ برس تقریباً 1500 افراد کو پھانسی دی گئی، جن میں بڑی تعداد نسلی اقلیتوں اور تارکینِ وطن کی تھی۔ایران کے نیشنل پولیس چیف احمد رضا رادان نے پیر کو کہا کہ وہ افراد جو دھوکہ کھا کر مظاہروں میں شامل ہوئے ، تین دن کے اندر خود کو پولیس کے حوالے کر دیں تو انہیں ہلکی سزا دی جائے گی۔ رادان نے ریاستی ٹی وی پر بتایا کہ انہیں دھوکہ کھانے والا سمجھا جائے گا، دشمن فوجی نہیں اور اسلامی جمہوریہ کے قانون کے تحت نرمی کا سامنا کریں گے ۔