خودمختاری کی خلاف ورزی سرخ لکیر وزیراعظم گرین لینڈ
نوک،ڈیووس(اے ایف پی)گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈریک نیلسن نے کہا کہ ان کا خطہ امریکا کے ساتھ پرامن مذاکرات چاہتا ہے۔۔۔
لیکن اس وقت وہ ڈنمارک کا حصہ رہنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی وقت گرین لینڈ کی خودمختاری کی خلاف ورزی ایک "سرخ لکیر" ہے ۔ نیلسن نے کہا کہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کے بغیر کوئی بھی معاہدہ یا سودا نہیں کر سکتا۔ اگر انتخاب کرنا پڑا تو گرین لینڈ ڈنمارک، یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ رہنے کو ترجیح دے گا۔دوسری جانب امریکا اور ڈنمارک نے گرین لینڈ کے 1951 کے دفاعی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے امریکی صدر ٹرمپ کو گرین لینڈ سے متعلق مجوزہ معاہدہ پیش کیا، جس میں جزیرے کی خودمختاری ڈنمارک کے پاس برقرار رکھی گئی ہے ۔ تاہم دفاعی انتظامات میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے ، جس کے تحت امریکاکو فوجی اڈے قائم کرنے اور نیٹو کی ضرورت پر دفاعی علاقے بنانے کی اجازت ہوگی۔ معاہدے میں آرکٹک میں نیٹو کی سرگرمیوں میں اضافہ، گرین لینڈ کے لیے مضبوط سکیورٹی انتظامات اور قدرتی وسائل کے استخراج کے نکات بھی شامل ہیں۔