امریکا ایران کشیدگی:مشرق وسطیٰ کیلئے کئی پروازیں معطل
اسرائیل کو ایران پر حملے کیلئے موقع کی تلاش ،حالات کا جائزہ لے رہا :ترک وزیر خارجہ امریکی حملے کے خدشات ،خامنہ ای تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ میں منتقل مذاکرات بند،ایران ایک بار پھر جوہری ہتھیار حاصل کرنیکی کوشش کر سکتا:پینٹاگون
تہران،واشنگٹن(اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ) فرانس کی ایئر فرانس اور ڈچ ایئر لائن کے ایل ایم نے مشرق وسطیٰ کے کچھ شہروں کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ ایئر فرانس نے دبئی کی پروازیں روکی ہیں جبکہ کے ایل ایم نے تل ابیب، دبئی، دمّام اور ریاض کے لیے پروازیں بند کر دیں اور عراق، ایران اور دیگر ممالک کی فضائی حدود سے گزرنے سے اجتناب کیا ہے ، یہ اقدام ٹرمپ کے ایران کیخلاف "فوجی بیڑا" بھیجنے کے اعلان کے بعد کیا گیا ۔ عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی اسرائیل کیلئے پروازیں عارضی طور پر بند ہیں ، کینیڈا نے تل ابیب کیلئے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کی جانب پروازوں میں احتیاطی تبدیلیاں کی گئی ہیں ، جرمنی نے بھی ایران کے لیے فضائی سروس روک دی ہے۔
اسی طرح آسٹریا نے بھی تہران کیلئے پروازیں معطل کر دی ہیں۔ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے کہا ہے کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اسرائیل ایران پر حملے کا موقع تلاش کر رہا ہے ۔ترک نشریاتی ادارے کو انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ امید ہے اسرائیل کوئی اور راستہ اختیار کرے گا تاہم حقیقت یہ ہے کہ خاص طور پر اسرائیل ایران پر حملے کے لیے حالات کا جائزہ لے رہا ہے ۔وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ حالیہ دورہ تہران کے دوران اُنہوں نے ایرانی قیادت کو بطور دوست اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دوست کڑوا سچ بھی کہہ سکتا ہے ۔ پینٹاگون نے اپنی ایک دستاویز میں خبردار کیا ہے کہ ایران نہ صرف روایتی فوجی صلاحیت کی تعمیر نو کی کوشش کر سکتا ہے بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ کسی بھی بامعنی مذاکرات کی عدم موجودگی میں وہ ایک بار پھر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے ۔ایک سینئر ایرانی اہلکار نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کے سٹرائیک گروپ اور خطے میں دیگر امریکی فوجی سازو سامان کی آمد کے پیشِ نظر ایران کو ‘مکمل جنگ’ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایرانی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی میڈیا سے گفتگو میں اُمید ظاہر کی کہ امریکی فوج کی نقل و حرکت کسی بڑے فوجی تصادم کا باعث نہیں بنے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیارہے ۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے ۔ یہ دعویٰ اپوزیشن سے وابستہ ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل نے کیا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق ایرانی فوجی اور سکیورٹی حکام نے امریکی حملے کے خطرے میں اضافے کا اندازہ لگایا، جس کے بعد خامنہ ای کو ایک محفوظ اور مضبوط زیرِ زمین تنصیب میں منتقل کیا گیا۔ یہ سہولت ایک قلعہ نما مقام ہے جس میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی سرنگیں موجود ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کے تیسرے بیٹے ، مسعود خامنہ ای نے خامنہ ای کے دفتر کے روزمرہ امور کی نگرانی سنبھال لی ہے اور وہ اب حکومت کی ایگزیکٹو شاخوں سے رابطے کا مرکزی ذریعہ بن چکے ہیں۔امریکا میں قائم ہیومن رائٹس نے ہفتے کو کہا کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کی لہر میں 5ہزار137 سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے ۔