ہانگ کانگ میں سونے کے متبادل چاندی کی دھڑا دھڑ خریداری
ہانگ کانگ (اے ایف پی)ہانگ کانگ کے وہ رہائشی جو قیمتی دھاتوں میں تیزی سے فائدہ اٹھانے کی امید رکھتے ہیں،
سونے کے متبادل کے طور پر چاندی کی سلاخیں خرید رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سونا ریکارڈ بلند سطحوں پر پہنچنے کے بعد اب حد سے زیادہ مہنگا ہو چکا ہے ۔ بدھ کے روز ہانگ کانگ کے مرکزی کاروباری ضلع میں واقع ایک قیمتی دھاتوں کی دکان نے اعلان کیا کہ دن کیلئے سیکڑوں چاندی کی سلاخیں فروخت ہو چکی ہیں، جس پر قطار میں کھڑے لوگوں میں مایوسی کی سرگوشیاں سنائی دیں۔ جمعرات کو عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اضطراب اور امریکی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے انتشار کے باعث سرمایہ کاروں نے اپنی رقوم محفوظ مقامات پر منتقل کیں، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمت بڑھ کر 5ہزار 588 ڈالر فی اونس سے بھی زیادہ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔چاندی نے بھی 119 ڈالر فی اونس سے اوپر کی نئی بلند ترین سطح کو چھوا، اور اس سال اس کی قیمت میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے ، جبکہ 2025 میں یہ 140 فیصد سے زائد بڑھ چکی تھی۔38 سالہ ڈلیوری ڈرائیور نے اے ایف پی کو بتایااگر آپ کے پاس چاندی یا سونا ہو تو یہ دولت کے لیے اچھا ہے ،انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی وجہ سے پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی اثرات ہر شخص کی صورتحال کو متاثر کر رہے ہیں،ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے ، تنخواہیں نہیں بڑھ رہیں ۔