ایپسٹین سکینڈل عالمی اشرافیہ پر قہر بن کر ٹوٹ پڑا، نیٹ ورک بے نقاب ،تخت لرزنے لگے

ایپسٹین سکینڈل عالمی اشرافیہ پر قہر بن کر ٹوٹ پڑا، نیٹ ورک بے نقاب ،تخت لرزنے لگے

30 لاکھ سرکاری دستاویزات میں شاہی خاندان، دانشور، سیاست دان، کھیلوں کے منتظمین، ٹیکنالوجی کے ارب پتی اور بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز شامل ناروے کے سابق وزیراعظم اور نوبل کمیٹی سربراہ کیخلاف تحقیقات ، شہزادی نے شاہی خاندان سے معافی مانگ لی ، لوگوں نے ملکہ بنانے کی مخالفت کردی سابق برطانوی سفیر کے ٹھکانوں پر چھا پے ، وزیراعظم اسٹارمر کی کرسی خطر ے میں ،سابق شہزادہ اینڈریو در بدر ، نام سامنے آنے پر متعدد شخصیات عہدوں سے الگ ایپسٹین کے تعلقات دائیں بازو کے اسٹیو بینن سے لے کر بااثر بائیں بازو کے دانشور نوم چومسکی تک تھے ،بل گیٹس ، کلنٹن ، ایہود بارا ک سے بھی رابطے رہے

پیرس، فرانس (اے ایف پی، رائٹرز )سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تازہ شائع شدہ دستاویزات نے دنیا کے طاقتور افراد کے وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے ۔ امریکی محکمۂ انصاف نے گزشتہ ہفتے تقریباً 30 لاکھ سرکاری دستاویزات شائع کیں، جن میں شاہی  خاندان، دانشور، سیاست دان، کھیلوں کے منتظمین، ٹیکنالوجی کے ارب پتی اور بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز کے نام سامنے آئے ۔ایپسٹین 2019 میں اس وقت ہلاک ہو گیا تھا جب وہ کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے مقدمے میں ٹرائل کا انتظار کر رہا تھا۔ دستاویزات کے مطابق، اس پر طویل عرصے سے الزام تھا کہ وہ دنیا کے طاقتور مردوں کو کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلقات فراہم کرتا رہا۔ایپسٹین نے اپنے تعلقات کو مخصوص اور ہدف شدہ انداز میں بنایا، جیسے ارب پتی پیٹر تھیل، بینکر ایریانے دے روتھشیلڈ، اور سابق اسرائیلی وزیراعظم ا یہود باراک کے ساتھ۔خاص طور پر فرانس میں متعدد افراد سے پوچھتا رہا کہ کیا ان کا صدر امانوئل میکرون، سابق وزیر معیشت برونو لے میر، یا سابق صدر نیکولا سارکوزی سے کوئی تعلق ہے ۔اس کے روابط نظریاتی حد بندی سے بالاتر تھے ، سخت دائیں بازو کی امریکی شخصیت اسٹیو بینن سے لے کر بااثر بائیں بازو کے دانشور نوم چومسکی تک شامل تھے ۔

نوجوان خواتین کی بھرتی اس کی سرگرمیوں کی بنیاد تھی، اور کچھ افراد ان خواتین کو ایپسٹین سے ملانے کا کام کرتے تھے ۔شائع شدہ دستاویزات سے معلوم ہوا کہ ایپسٹین کے خطوط میں خواتین سے تعصب، نسل پرستی اور ہم جنس مخالف خیالات شامل تھے ، اور اکثر برہنہ خواتین کی تصاویر بھی تھیں۔ایپسٹین اکثر فون کالز اور ذاتی ملاقات کو ترجیح دیتا تھا اور تحریری رابطے سے بچتا تھا۔امریکا میں بل کلنٹن اور ہلیری کلنٹن نے کانگریسی کمیٹی کے سامنے سابق صدر کی ایپسٹین کے ساتھ دوستی کے بارے میں جواب دینے پر رضامندی ظاہر کی۔برطانیہ کے سابق وزیر اور یورپی کمشنر پیٹر مینڈلسن، جو پہلے ہی سفیر کے عہدے سے ہٹا دئیے گئے تھے ، اب پولیس کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔برطانیہ کی پولیس نے جمعے کو کہا کہ انہوں نے سابق سفیر پیٹر مینڈلسن کے دو ٹھکانوں پر چھاپے مارے ہیں۔انہیں سفیر بنانے پر وزیراعظم اسٹارمر کا سیاسی مستقبل اور وزارت عظمٰی خطر ے میں ہے ۔سابق شہزادہ اینڈریو پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے ، و ہ شاہی ٹائٹل اور رہائشگاہ سے محروم کیے جاچکے ہیں ۔

اینڈریو کی سابق بیوی سارہ فرگوسن نے ایپسٹین کو وہ بھائی جس کا میں ہمیشہ خواب دیکھتی تھی قرار دیا تھا۔یورپ کے دیگر شاہی افراد بھی عوامی نگاہ میں آئے ہیں، جیسے ناروے کی شہزادی میٹے -ماریٹ جنہوں نے جمعے کے روز سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنی دوستی پر بادشاہ اور ملکہ سے معافی مانگی ہے ۔دستاویزات میں 2011 کی ایک ای میل بھی شامل ہے ، جس میں میٹے -ماریٹ نے ایپسٹین کو بتایا کہ وہ اس کے بارے میں گوگل کر چکی ہیں اور لکھا کہ یہ زیادہ اچھا نہیں لگتا۔ 2012 میں، جب ایپسٹین نے کہا کہ وہ پیرس میں بیوی کی تلاش میں ہیں، تو میٹے -ماریٹ نے جواب دیا کہ فرانسیسی دارالحکومت بدکاری کے لیے اچھا ہے اور اسکینڈے نیوینز بہتر بیوی کے معیار کے حامل ہیں۔اس ہفتے ایک سروے میں تقریباً نصف ناروے کے شہریوں نے کہا کہ انہیں ملکہ نہیں بننا چاہیے ، اور صرف ایک تہائی نے ان کی حمایت کی۔ناروے کی پولیس نے سابق وزیر اعظم تھوربیورن جاگلینڈ کے خلاف جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے سلسلے میں" سنگین بد اعمالی " کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

کیونکہ وہ نوبل کمیٹی کے سربراہ اور کونسل آف یورپ کے سیکرٹری جنرل کے طور پر اس مدت میں خدمات انجام دے چکے ہیں، جو شائع شدہ دستاویزات میں شامل ہے ۔وہ افراد جو ایپسٹین سے تعلقات کو کم اہم یا انکار کرتے رہے ، جیسے بل گیٹس اور لاس اینجلس اولمپکس کے چیف کیسی ویزر مین، اب مشکل میں ہیں۔ تازہ شائع شدہ دستاویزات کے بعد کچھ شخصیات نے اپنے عہدے چھوڑ دئیے ہیں، جیسے سلوواکیہ کے سابق وزیر اور وزیر اعظم رابرٹ فیکو کے مشیر میروسلاو لائچاک، اور فرانسیسی فلم پروڈیوسر کیرولین لانگ ۔ ناروے نے بھی اپنی معروف سفارتکارہ مونا جول کو اردن میں سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا۔ یہ دستاویزات واضح کرتی ہیں کہ ایپسٹین نے عالمی سطح پر انتہائی بااثر افراد تک رسائی حاصل کرنے کی منظم کوشش کی، اور اس کے اثرات آج بھی عالمی اشرافیہ کے کئی شعبوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں