جوہری افزودگی حق، میزائل پر وگرام پر بات نہیں کرینگے ، جنگ کیلئے تیار: ایران
امریکا نے حملہ کیا تو امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے ، تہران کی سرخ لکیریں واضح ،فلسطین عالمی انصاف کا امتحان:ایرانی وزیر خارجہ اسرائیل کو ہتھیار بڑھا نے کی کھلی چھوٹ ، دیگر ممالک کو روکا جا رہا،تہران غلبہ پسندی نظریہ کا شدید مخالف:عباس عراقچی،انٹر ویو ایرانی تجارتی شراکت داروں پر اضافی ٹیرف،ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط ،روس، جرمنی، ترکیہ سمیت دیگر ممالک متاثر ہونگے
قاہرہ،تہران،واشنگٹن (رائٹرز،اے ایف پی) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جوہری افزودگی ناقابل تنسیخ حق ہے ،یہ عمل جاری رہے گا، تاہم امریکا کے ساتھ اس معاملے پر اطمینان بخش معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہیں،میزائل پروگرام پر کسی صورت بات نہیں کرینگے ،میزائل ایران کے دفاع سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں،انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو تہران مشرقِ وسطٰی میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایران پڑوسی ملکوں کے خلاف حملہ نہیں کرے گا بلکہ صرف امریکی اڈوں پر حملہ کرے گا تاکہ میزبان ممالک کی خودمختاری متاثر نہ ہو،تہران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اگر امریکا نے حملہ کیا تو ایران جنگ کیلئے تیار ہے۔
انہوں نے کہا امریکی بمباری سے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات جلد بحال ہونے کی امید ہے تاہم ایران کی سرخ لکیریں واضح ہیں۔عمان میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کو عراقچی نے مثبت آغاز قرار دیا اور کہا کہ اعتماد سازی میں وقت لگے گا۔ عراقچی کے مطابق ایران اپنی سلامتی پر کوئی دباؤ قبول نہیں کرے گا ، مذاکرات میں صرف وہی نکات شامل ہوں گے جو ہمارے قومی مفادات اور خودمختاری سے ہم آہنگ ہوں۔ اپنے حقوق سے دستبردار ہوئے بغیر ایسے معاہدے پر تیار ہیں جو عالمی خدشات کو دور کر سکے ۔ مذاکرات قومی مفادات اور خودمختاری کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہوں گے ۔عراقچی نے کہا امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ تاحال طے نہیں کی گئی، تاہم دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت جلد ہونی چاہیے۔
تہران اور واشنگٹن مذاکرات کے تسلسل کے خواہاں ہیں تاہم اعتماد سازی کے لیے وقت درکار ہوگا۔ عباس عراقچی نے کہا اسرائیل کی عسکری توسیع اور پڑوسی ممالک پر دباؤ ڈالنا ایک غلبہ پسندی کا نظریہ ہے ۔ اسرائیل کو اپنے فوجی ہتھیار بڑھا نے کی کھلی چھوٹ ہے جبکہ دیگر ممالک کو ہتھیار کم کرنے اور دفاعی صلاحیت محدود کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ ایران اس نظریے کی شدید مخالفت کرتا ہے جس کامقصد خطے میں طاقت کے توازن کو نقصان پہنچانا ہے ۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فلسطین ہمارے خطے کی اسٹریٹجک اور اخلاقی سمت متعین کرتا ہے ، دوحہ میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطین عالمی انصاف کا امتحان ہے ۔ غزہ میں جاری صورتحال محض جنگ نہیں بلکہ شہری آبادی کی دانستہ اور بڑے پیمانے پر نسل کشی ہے۔
ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دئیے جس کے تحت ایرانی تجارتی شرکت داروں پر اضافی ٹیرف لگایا جائیگا ، ٹیرف 25 فیصد تک ہو سکتا ہے ،روس، جرمنی، ترکیہ ، امارات سمیت دیگر ممالک متاثر ہوں گے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات بہت اچھے رہے اور اگلے ہفتے پھر ملاقات ہوگی۔ ایرانی ریاستی ٹی وی کے مطابق حکام نے کالعدم کردستان فری لائف پارٹی کے 11 ارکان کو گرفتار کر لیا ہے ، گرفتار شدگان کارروائی کرنے سے پہلے پکڑے گئے ، ایران، ترکیہ اور امریکا نے اس گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے ۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بدھ کو واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے ، جس میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد دونوں رہنماؤں کی چھٹی ملاقات ہوگی۔امریکی صدر کے ایران سے مذاکرات کے مرکزی نمائندے اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر نے بحیرہ عرب میں موجود امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا دورہ کیا ہے ،وٹکوف نے کہا یہ جہاز صدر ٹرمپ کے "امن بذریعہ طاقت" کے پیغام کو تقویت دے رہا ہے ۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہفتے کو ہزاروں مظاہرین نے ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ پولیس کے مطابق برانڈنبرگ گیٹ پر ایرانی جلاوطن اپوزیشن گروپ ایم ای کے کے زیر اہتمام مظاہرے میں 10 ہزار افراد شریک ہوئے ۔ ایک اور ریلی سابق ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے حامیوں نے نکالی، جس میں 1600 افراد شامل تھے ۔