یوٹیوب سوشل میڈیا نہیں تاریخی مقدمے میں بیان داخل

 یوٹیوب سوشل میڈیا نہیں  تاریخی مقدمے میں بیان داخل

لاس اینجلس (اے ایف پی)گوگل کی ملکیت ویڈیو پلیٹ فارم یوٹیوب کے وکیل نے منگل کو کہا ہے کہ یوٹیوب نہ تو جان بوجھ کر لت لگانے کیلئے بنایا گیا ہے اور۔۔۔

 نہ ہی یہ تکنیکی طور پر سوشل میڈیا کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف ایک تاریخی مقدمہ دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے ، جس میں یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کیلئے دانستہ طور پر نشہ آور بنایا گیا۔لاس اینجلس میں جاری اس بڑے سول مقدمے میں یوٹیوب اور میٹا (انسٹاگرام اور فیس بک کی مالک کمپنی) مدعا علیہ ہیں۔ اس کیس کو ایک ممکنہ قانونی نظیر قرار دیا جا رہا ہے جو یہ طے کر سکتا ہے کہ آیا سوشل میڈیا کمپنیوں نے بچوں کو اپنے پلیٹ فارمز کا عادی بنانے کیلئے مخصوص ڈیزائن استعمال کیے ۔یوٹیوب کے وکیل لوئس لی نے 12 رکنی جیوری کے سامنے ابتدائی دلائل دیتے ہوئے کہاکہ جب کوئی چیز سوشل میڈیا ہی نہ ہو تو اس کی لت بھی سوشل میڈیا کی لت نہیں کہلا سکتی۔کیلیفورنیا کی ریاستی عدالت میں جاری اس مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 20 سالہ خاتون، جس کی شناخت کیلی جی ایم کے نام سے کی گئی ہے ، بچپن میں سوشل میڈیا کی لت کا شکار ہوئیں جس کے نتیجے میں انہیں شدید ذہنی نقصان پہنچا۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں