60سالہ طارق رحمن بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم
طارق سابق وزیر اعظم خالدہ کے صاحبزادے ،2008سے لندن میں مقیم تھے حسینہ کی برطرفی کے بعد دسمبر 2025 میں جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے
ڈھاکا (رائٹرز )بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ 60سالہ طارق رحمن ملک کے نئے وزیر اعظم ہونگے ۔وہ دسمبر 2025 میں تقریباً دو دہائیوں کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے ، جب سابق وزیرِاعظم حسینہ واجد کو بر طر ف کیا جاچکا تھا ، جو ان کی والدہ کی سخت سیاسی حریف رہی ہیں۔طارق رحمان سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں، جو ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم تھیں۔ وہ 2008 سے لندن میں مقیم رہے اور 2018 سے بی این پی کے قائم مقام چیئرمین کے طور پر پارٹی کی قیادت کرتے رہے ۔حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں طارق رحمان کو منی لانڈرنگ اور 2004 میں ان پر قاتلانہ حملے کی مبینہ سازش سمیت مختلف مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی، تاہم حسینہ کی برطرفی کے بعد یہ فیصلے کالعدم قرار دیدئیے گئے ۔رواں ماہ کے اوائل میں طارق رحمان نے اپنی بڑی حریف جماعت اسلامی کی جانب سے قومی اتحاد حکومت کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی اپنے بل بوتے پر کامیابی کے لیے پُراعتماد ہے ۔بی این پی نے اپنی سیاست کو معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کے نعروں کے گرد مرکوز کر رکھا ہے ۔