میونخ سکیورٹی کانفرنس،دنیا بھر کے سیاسی و عسکری رہنما موجود
اقوام متحدہ غزہ سمیت عالمی تنازعات حل کرنے میں ناکام رہا :امریکی وزیر خارجہ کا خطاب امریکی غیر متوقع فیصلے یورپی سلامتی کیلئے چیلنج ،ہارڈ کور یورپ‘‘ میں پینل شرکا کا اعتراف
میونخ(اے ایف پی) میونخ سکیورٹی کانفرنس میں یورپ اور دنیا بھر کے اعلیٰ سیاسی و عسکری رہنما موجود ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اقوام متحدہ عالمی تنازعات حل کرنے میں ناکام ہے ۔ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اقوام متحدہ میں بہت صلاحیت موجود ہے لیکن آج کے اہم مسائل پر یہ کوئی جواب نہیں دے سکا اور غزہ میں جنگ کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔روبیو نے بڑے پیمانے پر ہجرت کو مغربی معاشروں کیلئے چیلنج قرار دیتے ہوئے مشترکہ تہذیبی ورثے کے دفاع پر زور دیا۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ روس یوکرین کے خلاف جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ ہے ۔ امریکا فوری امن معاہدے کے لیے کوششیں کر رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ واشنگٹن یورپ سے علیحدگی نہیں چاہتا بلکہ اپنے اتحاد کو نئی جان دینے اور مشترکہ تہذیب کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
اس وقت یورپی ممالک واشنگٹن کے بدلتے ہوئے رویے کے باعث مستقبل کی سلامتی کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔اسی تناظر میں کانفرنس کے پہلے روز ایک اہم سیشن ہارڈ کور یورپ کیا ہم امریکا کے بغیر اپنا دفاع کر سکتے ہیں؟’’ کے عنوان سے منعقد ہوا۔پینل شرکا نے اعتراف کیا کہ واشنگٹن کے غیر متوقع فیصلے یورپی سلامتی کیلئے ایک چیلنج بن چکے ہیں، اسی لیے کئی ممالک یہ غور کر رہے ہیں کہ دفاعی شعبے میں زیادہ خود مختاری کیسے حاصل کی جائے ۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی روس کے خلاف جنگ نے یورپ کو آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا یورپ کو سوچنا ہوگا کہ روسی ٹینک دوبارہ بوڈا پسٹ کی سڑکوں پر نہ آئیں۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ یوکرینی عوام بھاری قیمت اور تکالیف برداشت کر کے یورپی محاذ سنبھالے ہوئے ہیں۔ نیٹو چیف مارک رُوٹے نے کہا ہے کہ یورپ میں کوئی بھی امریکی نیوکلیئر چھتری کے متبادل کی بات نہیں کر رہا۔
یورپ میں نیوکلیئر ردعمل اور دفاعی استعداد مضبوط کرنے کی بات کی جا سکتی ہے ، لیکن کسی کو یہ خیال نہیں کہ وہ امریکی نیوکلیئر تحفظ کو بدل دے ۔انہوں نے زور دیا کہ یورپ اور امریکا کا مشترکہ دفاعی رشتہ برقرار رہنا چاہیے اور یہ سب کے لیے فائدہ مند ہے ۔ یوکرینی صدر نے کہا ہے کہ روسی صدر خود کو زار سمجھ سکتے ہیں مگر حقیقت میں وہ جنگ کا غلام ہیں۔ زیلنسکی نے خبردار کیا کہ پیوٹن نہ صرف یوکرینی عوام کو آزاد ہونے نہیں دے گا بلکہ دیگر یورپی ممالک کیلئے بھی خطرہ ہے کیونکہ وہ جنگ کے خیال سے خود کو آزاد نہیں کر سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ یورپ کو اس خطرے کا ادراک کرنا ہوگا۔برطانوی وزیر اعظم نے زور دیا کہ یورپ کو اپنی عسکری طاقت بڑھانا ہوگی اور مشترکہ صنعتی بنیاد قائم کرنا ہوگی تاکہ دفاعی پیداوار مضبوط ہو اور جارحیت کو روکا جا سکے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیر سٹارمر نے کانفرنس میں کہا ہے کہ یورپ ایک "سویا ہوا دیو" ہے اور اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر کم انحصار کرنا چاہیے ۔انہوں نے زور دیا کہ یورپ کو اپنے دفاعی نظام میں زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا اور یورپی خودمختاری کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات مضبوط رہیں۔ سٹارمر نے واضح کیا کہ یہ اقدام امریکی فوجی انخلا کا مطلب نہیں بلکہ بوجھ بانٹنے اور خطے کی حفاظت کے لیے ضروری ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو اپنے دفاع میں مضبوط اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔