پاکستانی ادویات پر پابندی سے افغانستان میں بحران
ٹرانسپورٹ اخراجات میں 30 فیصد تک اضافہ، مہنگی ادویات بھی نہیں ملتیں نسخے تبدیل، متبادل کی تلاش: افغان ڈاکٹرز نئی مشکلات سے دوچار افغانیوں کو اعتماد ہے کہ شفا صرف پاکستانی ادویات کے استعمال سے ملے گی
کابل (اے ایف پی)افغانستان میں ادویات کی منڈی میں اصلاحات کے حکومتی فیصلے کے بعد مختلف مسائل سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ماہرین کے مطابقادویات کی درآمدات پر اچانک پابندی اور پالیسی میں تیز رفتار تبدیلیوں نے مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے اور قلت کو جنم دیا ہے ۔ تاہم یہ تبدیلی افغانستان جیسے ملک کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو رہی ہے ، جو اپنی نصف سے زائد ادویات پاکستان سے درآمد کرتا رہا ہے ۔کابل میں فارماسسٹ مجیب اللہ افضلی کے مطابق، "کچھ ادویات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور کچھ دستیاب نہیں رہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔"ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متبادل سپلائی کا بندوبست جلد نہ کیا گیا تو صحت کے شعبے میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے ۔افغانستان میں پاکستان سے درآمد پر پابندی کے بعد ادویات اب دیگر ممالک سے منگوائی جا رہی ہیں، جس کے باعث ترسیل کا دورانیہ اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے ، جبکہ لاجسٹک مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔
کابل کے ایک فارماسسٹ مجیب اللہ افضلی نے بتایا کہ انہوں نے ایران کی سرحد پر واقع اسلام قلعہ کراسنگ کے ذریعے ادویات درآمد کرنا شروع کر دی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ فیس میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ۔فارماسیوٹیکل صنعت سے براہِ راست وابستہ ایک شخص نے سکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ پہلے ادویات کی مجموعی لاگت میں ٹرانسپورٹ کا حصہ چھ سے سات فیصد ہوتا تھا، جو اب بڑھ کر 25 سے 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے ۔ان کے مطابق کاروباری مالکان کو اب تک مجموعی طور پر لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے ۔
انہوں نے کہا، "اگر پہلے مارکیٹ میں کسی دوا کی قلت ہوتی تھی تو پاکستان کو فون کیا جاتا تھا اور دوا دو سے تین دن میں پہنچ جاتی تھی۔"انہوں نے مزید کہا کہ چاہے قانونی طریقے سے ہو یا غیر قانونی طور پر، ادویات تیزی سے فراہم کر دی جاتی تھیں۔کچھ ادویات جو افغانستان میں تیار کی جا رہی ہیں، وہ پاکستان سے درآمد ہونے والی ادویات کے مقابلے میں مہنگی ثابت ہو رہی ہیں، جبکہ پاکستانی ادویات نے برسوں کے دوران صارفین کا اعتماد حاصل کیا تھا۔صنعتی ذریعے کے مطابق بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ "اگر وہ پاکستانی دوا استعمال کریں گے تو صحت یاب ہو جائیں گے "، لیکن اگر دوا بھارت یا کسی اور ملک سے ہو تو وہ اتنا اعتماد محسوس نہیں کرتے ۔دوسری جانب معالجین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ کابل میں ایک صحت فراہم کرنے والے نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ڈاکٹروں کو نسخے تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، مناسب متبادل تلاش کرنے ہوتے ہیں اور علاج کے منصوبے میں ردوبدل کے لیے اضافی وقت صرف کرنا پڑتا ہے ۔ان کے بقول، "مریضوں کو ادویات کی قلت، بار بار متبادل ادویات کی تبدیلی اور بعض اوقات زیادہ قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔"