مقبوضہ کشمیر:جیل سے 2پاکستانیوں سمیت 3 بچے فرار
مقبوضہ وادی میں کئی ’’نو گو زون‘‘سیاحتی سرگرمیوں کیلئے کھول دئیے گئے سیاحت کے شعبے سے جڑے ہوٹل مالکان اور ٹرانسپورٹرز کا فیصلے کا خیر مقدم
سرینگر(آئی این پی )مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب ضلع رنبیر سنگھ پورہ میں واقع بچوں کیلئے مخصوص جیل (جوِنائل ہوم) سے تین بچے فرار ہو گئے ۔بچوں نے جیل کی ایک بیرک پر تعینات دو سکیورٹی اہلکاروں وِنے کمار اور پروین کمار پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا اور جیل سے فرار ہو گئے ۔۔پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے بچوں میں سے ایک کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے ننکانہ صاحب اور دوسرے کا تعلق دھیر پور تحصیل مظفرآباد سے ہے جبکہ تیسرا نوعمر رنبیر سنگھ پورہ کا مقامی رہائشی ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والوں میں شامل دو پاکستانی بچوں کا مسلح عسکریت پسندی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور انہیں غلطی سے سرحد عبور کرتے وقت گرفتار کیا گیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں مزیدکئی سیاحتی مقامات کو سیاحتی سرگرمیوں کے لیے بحال کر دیا گیاہے جنہیں پہلگام حملے کے بعد عام سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
گزشتہ برس اپریل میں پہلگام میں سیاحوں پر فائرنگ کے نتیجے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد قابض حکومت نے پہلگام سمیت 50 سیاحتی مقامات کو ‘نو گو زون’ قرار دے کر وہاں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔تازہ حکمنامے کے مطابق یوس مرگ، دودھ پتھری، کوکرناگ کی ڈانڈی پورہ پارک، شوپیان کے پڑپاون اور دھوبجن ، سرینگر کے ٹیولِپ گارڈن، سونہ مرگ کے تھاجواس گلیشئیر، گاندربل کی ہنگ پارک، جھیل ولر اور وٹلب کے مقامات پر سیاحت کو بحال کیا گیا۔ جموں میں بھی کئی ماہ کی پابندی کے بعد سیاحوں کو ریاسی کے دیوی پنڈی، رام بن کے مہو منگت اور کشتواڑ کے مغل میدان مقامات کو بھی عام سیاحت کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔سیاحت کے شعبے سے جڑے ہوٹل مالکان اور ٹرانسپورٹرز نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔