ایران ، روس بحیرہ عمان میں آج مشترکہ بحری مشقیں کرینگے

ایران ، روس بحیرہ عمان میں آج مشترکہ بحری مشقیں کرینگے

امریکا کے ساتھ مذاکرات کیلئے ابتدائی فریم ورک تیار کر لیا:ایرانی وزیر خارجہ ایران میں مظاہرین کے سوگ کی تقاریب، نیا کریک ڈاؤن، فائرنگ، گرفتاریاں

تہران،واشنگٹن(اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ)  ایران اور روس آج جمعرات کوبحیرہ عمان میں مشترکہ بحری مشقیں کریں گے ، جس کا مقصد سمندری سلامتی کی حفاظت اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے تعلقات کو مضبوط کرنا ہے ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافیل گروسی سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلئے ابتدائی اور مربوط فریم ورک تیار کیا ہے ،تہران بات چیت کے لیے واضح لائحہ عمل مرتب کر رہا ہے ۔نائب امریکی صدر وینس نے کہا ہے کہ امریکا کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔صدر ٹرمپ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ جب چاہیں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سفارتکاری اپنے فطری انجام کو پہنچ چکی ۔ امریکی وزیر توانائی کرائس رائٹ نے کہا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلئے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سکیو رٹی فورسز کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے 40 روز پورے ہونے پر ان کی یاد منانے کیلئے ملک بھر میں سوگ کی روایتی چہلم تقریبات منعقد ہوئیں۔ تقریبات احتجاجی جلوسوں میں تبدیل ہو گئیں ، ابدانان، ہمدان اور مشہد میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ بھی کی، جس سے کئی افراد کے زخمی ہونے اور گرفتاریوں کی اطلاعات ملی ہیں ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں