برطانیہ :ایک ہزار سالہ شاہی خاندان کا زوال شروع ؟

برطانیہ :ایک ہزار سالہ شاہی خاندان کا زوال شروع ؟

ملکہ کا چہیتا بیٹا نفرت کا شکار ، پولیس نے ڈی این اے نمونے ، فنگرپرنٹس لیے

لند ن (دنیا رپورٹ )جمعہ کی صبح، بادشاہ چارلس کی آنکھ کھلی تو دنیا بھر کے اخبارات کی سرخیاں اور ان کی چھوٹے بھائی اینڈریو مائونٹ بیٹن-ونڈسر کی پولیس اسٹیشن سے روانگی کی تصاویر سامنے تھیں ، یہ پچھلے 90 سالوں میں برطانوی شاہی خاندان کیلئے سب سے سنگین بحران  کی داستان تھی ۔اینڈریو مائونٹ بیٹن-ونڈسر کی گرفتاری اور امریکہ کے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ اُن کے تعلقات کی وجہ سے عوامی رسوائی نے کچھ حلقوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا یہ سلسلہ ایک ہزار سالہ شاہی خاندان کے زوال کی ابتدا ثابت ہو سکتا ہے ۔تقریباً تمام برطانوی اخبارات نے اپنے سرِ صفحات پر بدنام شاہی رکن اینڈریو مائونٹ بیٹن-ونڈسر کی تصویر شائع کی، جس میں وہ تھکے ماندہ اور پھیلی آنکھوں کے ساتھ نورفوک پولیس اسٹیشن سے ایک گاڑی میں نکلتے نظر آ رہے تھے ۔

ڈیلی میل نے اس تصویر کے ساتھ بڑا عنوان دیا: زوال۔ٹیبلائیڈ اخبار دی سن نے نوٹ کیا کہ گرفتاری کے بعد، جیسے ہر گرفتار شخص کا ہوتا ہے ، مائونٹ بیٹن-ونڈسر کا ڈی این اے اور تھوک کا نمونہ لیا گیا، ساتھ ہی ان کے فنگر پرنٹس اور ایک تصویر بھی بنائی گئی۔جو شخص کبھی فاکلینڈز جنگ کا ہیرو اور ملکہ الزبتھ دوم کا چہیتا بیٹا تھا، وہ اب برطانوی عوام میں نفرت کا شکار ہے ۔ شاہی خاندان ونڈسر بدنامیوں، رسوائیوں اور سانحات سے اجنبی نہیں ہے ۔1997 میں چارلس کی پہلی زوجہ پرنسز ڈیانا کی طلاق اور انتقال نے عوام میں زبردست غصے کو جنم دیا ۔یہ خاندان پہلے بھی کئی نمایاں اور سرخیوں والے ڈراموں کے بیچ رہا ہے ۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس گرفتاری سے شاہی خاندان اور محل کو تھوڑا موقع ملے گا اور اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے ساتھ ‘ایک عام مشتبہ شخص’ جیسا سلوک کرنے سے نقصان میں کمی آئے گی۔بھیانک خبروں کے درمیان یہ شاید تسلی کا ایک قطرہ ہو لیکن یہ زیادہ امید افزا نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں