ایران پر حملہ ڈیموکریٹس کی تنقید ، ٹرمپ کو اپنے پارٹی رکن کی بھی مخالفت کا سامنا
یہ امریکا فرسٹ نہیں،ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر جنگ پر ووٹنگ یقینی بنانے کی کوشش کروں گا:ریپبلکن رکن کانگریس کانگریس سے منظوری لی نہ اختتامی منصوبہ بتایا،لاگت، خطرات ،مدت کے بارے میں اندھیرے میں رکھا:ڈیموکریٹس
واشنگٹن (اے ایف پی)ریپبلکن رہنماؤں نے ہفتے کو امریکی افواج اور ان کے اتحادی اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کا زیادہ تر خیرمقدم کیا، جبکہ نمایاں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اسے غیر قانونی جارحیت قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔ایران کے خلاف امریکی فوجی مداخلت کے طویل عرصے سے حامی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر ہزار سال میں مشرقِ وسطیٰ میں آنے والی سب سے تاریخی تبدیلی کا نقطئہ آغاز ثابت ہوگی۔ایوانِ نمائندگان کے سینئر ریپبلکن رہنما ٹام ایمر نے کہا یہ صدر ٹرمپ کی جانب سے طاقت کا ایک جرات مندانہ اور فیصلہ کن مظاہرہ ہے ۔ٹرمپ کو اپنی ریپبلکن پارٹی پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اختلافِ رائے شاذ و نادر ہی سامنے آتا ہے ۔تاہم رکن کانگریس تھامس میسی نے پارٹی لائن سے ہٹ کر کہا میں اس جنگ کی مخالفت کرتا ہوں۔
انہوں نے ٹرمپ کے معروف انتخابی نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے ایکس پر لکھا یہ ’امریکا فرسٹ‘ نہیں ہے ۔ریپبلکن رکن نے زور دیا کہ جب ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا اجلاس دوبارہ ہوگا تو وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ پر کانگریس میں ووٹنگ کو لازمی بنانے کی کوشش کریں گے ۔ڈیموکریٹس کی اکثریت ایران پر بڑے پیمانے کے حملے کے خلاف متحد نظر آئی۔سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں سرکردہ ڈیموکریٹ جیک ریڈ نے کہا کہ ٹرمپ نے ملک کو ایران کے ساتھ ایک بڑی جنگ میں دھکیل دیا ہے ۔ ایسی جنگ جس کے لیے انہوں نے نہ تو کوئی واضح جواز پیش کیا، نہ کانگریس سے منظوری لی، اور نہ ہی اس کا کوئی اختتامی منصوبہ بتایا۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے امریکی عوام کو اس تنازع کی اصل لاگت، خطرات اور مدت کے بارے میں اندھیرے میں رکھا ہے ۔