ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا عہدہ کتنا طاقتور، انتخاب کیسے ہوتاہے ؟

ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا عہدہ کتنا  طاقتور، انتخاب کیسے ہوتاہے ؟

تہران(دنیا مانیٹرنگ )ایران کے آئین کے مطابق رہبرِ اعلیٰ ملک کی سب سے طاقتور شخصیت ہوتا ہے اور صرف ایک آیت اللہ یعنی اہل تشیع مذہبی رہنما ہی یہ عہدہ سنبھال سکتا ہے۔

 یہ عہدہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہوا، آیت اللہ خمینی پہلے اور آیت اللہ علی خامنہ ای دوسرے رہبرِ اعلیٰ بنے ۔رہبرِ اعلیٰ کی موت یا عارضی عدم دستیابی کی صورت میں تین رکنی عبوری کونسل قائم ہوتی ہے ، جس میں صدر، عدلیہ کے سربراہ اور شوریٰ نگہبان کا ایک فقیہ شامل ہوتا ہے ۔ اس کونسل کے اہم فیصلے صرف مجمع تشخیص مصلحت نظام کی تین چوتھائی اکثریت سے نافذ ہوتے ہیں، جیسے جنگ کا اعلان یا صدر کا مواخذہ۔رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب مجلسِ رہبری کرتی ہے ، جس کے 88 علما ہر آٹھ سال بعد منتخب ہوتے ہیں۔

کسی امیدوار کو پہلے شوریٰ نگہبان کی منظوری درکار ہوتی ہے ، جس میں موجودہ رہبر کا اثر و رسوخ غالب ہوتا ہے ۔ نئے رہبر کا انتخاب کسی مقررہ وقت کے بغیر کیا جا سکتا ہے ، اور مجلس میں موجود دو تہائی ارکان کی اکثریت سے فیصلہ کیا جاتا ہے ۔رہبرِ اعلیٰ کے اختیارات میں فوج و پاسداران انقلاب کی سربراہی، حکومت کی نگرانی، ریفرنڈم کرانا، معافی دینا اور ملک کی عمومی حکمت عملی کا تعین شامل ہے ۔ صدر اور انتظامیہ کے بعض اختیارات بھی رہبر کے تحت آتے ہیں، اور اختلافات کی صورت میں سب سے آخر میں رہبر سے رجوع کیا جاتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں