ایران میں لڑکیوں کے سکول پر حملہ جنگی جرم ہو سکتا :اقوام متحدہ
نیو یارک(دنیا مانیٹرنگ)اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے ایران میں لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول پر حملےکی اطلاعات کے بعد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
اس حملے میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہوئے ، جن میں بہت بڑی اکثریت کم عمر طالبات کی تھی۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے جنیوا سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا اس حملے کو کرنے والی افواج کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات کریں۔ ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تحقیقات کے نتائج عام کیے جائیں اور متاثرین کو انصاف اور ازالہ دونوں فراہم کیے جائیں۔ایرانی حکام کے مطابق ہفتے کی صبح ایک پرائمری سکول پر حملے میں سات سے 12 سال تک کی عمر کی کم از کم 168 طالبات، 26 اساتذہ اور چار والدین ہلاک ہوئے۔