آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے چین کی ایران سے بات چیت
آبنائے ہرمز بند نہیں کی ،امریکا اسرائیل پرپابندی ہے :ترجمان ایرانی فوج امریکی ،اسرائیلی اوریورپی جہاز نظر آیاتو نشانہ بنائیں گے :پاسداران انقلاب
لندن (رائٹرز،اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کو محفوظ راستہ دینے کیلئے ایران کے ساتھ بات چیت کا آغاز کردیا جبکہ پاسداران انقلاب کی جانب سے پیرکے روز سے بندش کے بعد سے آج تک صرف نو آئل ٹینکرز، کارگو اور کنٹینر والے جہاز آبنائے ہرمز عبور کرسکے ہیں ۔پاسداران انقلاب کاکہناہے کہ آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیاگیا صرف امریکی اوراسرائیلی جہازوں کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ چین ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاکہ خام تیل اور قطری مائع قدرتی گیس کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی اجازت دی جا سکے کیونکہ تہران کے خلاف امریکااسرائیل جنگ میں شدت آتی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق چین کے ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور مشرق وسطیٰ کی سپلائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے ،وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو مفلوج کرنے کے اسلامی جمہوریہ ایران کے اقدام سے ناخوش ہے اور تہران پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ جہازوں کو محفوظ گزرنے کی اجازت دے ۔اے ایف پی کے تجزیہ کردہ میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کے بعد سے صرف نو آئل ٹینکرز، کارگو اور کنٹینر والے جہاز جن میں سے بعض نے بعض اوقات اپنی پوزیشن چھپائی، آبنائے ہرمز کو عبور کرتے ہوئے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے سرکاری ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا، آبنائے ہرمز سے اسرائیل اور امریکا کے بحری جہاز نہیں گزر سکتے ،خطے میں امریکی اہداف کے خلاف جنگ میں آگے بڑھ رہے ہیں،خطے کے ممالک کو سمجھنا چاہئے امریکی اڈے ان کیلئے سکیورٹی کے بجائے عدم تحفظ کا باعث ہیں۔پاسداران انقلاب نے بھی جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک کے جہازوں کیلئے بند کر دی گئی ہے ۔ایرانی سرکاری ریڈیو اور ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان ممالک کے کسی جہاز کو دیکھا گیا تو اسے لازماً نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ جنگ کی صورت حال میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہونا چاہئے ۔انہوں نے واضح کیا کہ تہران دشمن ممالک کے تجارتی اور جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔