ٹرمپ جنگ سے نکلنے کے راستے کی تلاش میں ۔۔۔
TACOکی اصطلاح متعارفTrump Always Chickens Out (ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں)
واشنگٹن (اے ایف پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے ، لیکن دنیا ابھی تک یہ اندازہ نہیں لگا سکی کہ وہ واقعی جنگ ختم کریں گے یا تہران انہیں ایسا کرنے دے گا۔تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عالمی معیشت اور صدر کے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے خطرہ بن رہی ہیں، اور اسی وجہ سے ٹرمپ نے پیر کو اپنے لہجے میں اچانک تبدیلی کی، جنگ کو "بہت مکمل" اور عارضی قرار دیا۔ٹرمپ کے فیصلے میں نومبر کے امریکی مڈٹرم انتخابات بھی اہم کردار ادا کریں گے ، کیونکہ بڑھتی ہوئی گیس کی قیمتیں ووٹروں کو ان کے ریپبلکن پارٹی کے خلاف مشتعل کر سکتی ہیں۔اب تک کی رائے شماری سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی عوام کی جنگ کے لیے حمایت تاریخی طور پر کم ہے ۔کولن کلارک، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، سُوفان سینٹر، نیویارک، نے اے ایف پی کو بتایا:"میرا خیال ہے کہ وہ اسی وقت تک جنگ جاری رکھیں گے جب تک ان کے مشیر نہ کہیں کہ اقتصادی دباؤ مڈٹرم انتخابات کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔
کچھ مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کے ایران جنگ کے مختصر دورانیے کے حوالے سے تبصرے اس بات کا ثبوت ہیں جسے TACO phenomenon کہا جاتا ہے - یعنی Trump Always Chickens Out (ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں)۔رابرٹ آرمسٹرانگ، فنانشل ٹائمز کے صحافی جنہوں نے سب سے پہلے TACO کی اصطلاح استعمال کی، نے لکھا:"انہوں نے واضح طور پر یہ پیغام دیا، جس سے مارکیٹ خوش ہوئی، کہ ٹرمپ جنگ سے نکلنے کے راستے کی تلاش میں ہیں۔"امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے ابتدائی دنوں میں ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ جنگ چار یا پانچ ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے ، لیکن پیر کو ان کے مختصر دورانیے کے اشارے پر مارکیٹ میں اچانک اضافہ ہوا۔تجزیہ کار کولن کلارک نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ اگلے دو ہفتے سختی سے کارروائی کریں گے ، پھر حالات اتنے پیچیدہ ہو جائیں گے کہ وہ خود کو فاتح قرار دے دیں گے۔ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے جنگ کے اہداف کے حوالے سے عوام کے سامنے مسلسل بدلتے بیانات دئیے ہیں، جو نام نہاد حکومت کی تبدیلی سے لے کر خلیج کے تیل کی حفاظت تک مختلف ہیں۔
تاہم، کاغذ پر کچھ بنیادی فوجی اہداف واضح ہیں، جیسے کہ:ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہونا،اس کے بیلسٹک میزائل اور بحریہ کا خاتمہ،اور خطے میں اس کے پراکسیز کو محدود کرنایہ اہداف ٹرمپ کے لیے زیادہ قابل قبول اور دستخط کے قابل ہیں، مگر ایران کسی بھی اعلان کو ٹرمپ کی پیچھے ہٹنے کی علامت کے طور پر دیکھ سکتا ہے ۔اگرچہ امریکی-اسرائیلی فضائی حملوں نے تہران کو کافی نقصان پہنچایا، ایران نے ٹرمپ کے بیانات کے بعد مزاحمتی لہجہ مزید تیز کر دیا ہے ۔ اس نے خلیج کے تیل کی سپلائی روکنے کا وعدہ کیا اور امریکی رہنما کے جنگ کے دورانیے پر قابو پانے کے دعوئوں کا مذاق اڑایا۔ والٹر رسل میڈ نے وال سٹریٹ جرنل میں لکھا کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای اور موجودہ نظام برقرار رہتے ہیں، تو اس آپریشن کو یاد کیا جائے گا تمام گھاس کاٹنے والی مشینوں کی ماں - یعنی صرف سطحی سطح پر کارروائی ہوئی۔