بھارتی سپریم کورٹ نے پہلی بار لائف سپورٹ ختم کرنیکی اجازت دید ی
نئی دہلی(اے ایف پی،دنیامانیٹرنگ )بھارت میں بدھ کو اپنے ایک تاریخی فیصلے میں ملکی سپریم کورٹ نے ایک 31سالہ شخص کیلئے لائف سپورٹ ہٹانے کی اجازت دے دی۔۔۔
جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کوما میں تھا ، ڈاکٹروں کے مطابق ان کے صحتیاب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔والدین نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے بیٹے کو زندگی کی معاونت سے ہٹایا جائے ، یہ بھارت میں عدالت کی جانب سے منظور کی جانے والی غیر فعال قتل رحم یا یوتھینیزیا کی پہلی مثال ہے ۔ غیر فعال یوتھینیزیا سے مراد زندگی برقرار رکھنے والے علاج کو روک دینا یا ختم کرنا ہے ۔بھارت میں 2018 میں غیر فعال یوتھینیزیا کو قانونی قرار دے دیا گیا تھا، تاہم فعال یا ایکٹیو یوتھینیزیا، یعنی کسی شخص کو جان بوجھ کر اپنی زندگی ختم کرنے میں مدد دینا، اب بھی غیر قانونی ہے ۔ہریش رانا کو 2013 میں ایک عمارت کی چوتھی منزل کی بالکونی سے گرنے کے بعد سر پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور وہ تب سے کوما کی حالت میں ہیں۔