جی پی ایس کا نیا مسئلہ :بحری جہاز زمین پر ، کاریں سمندر میں
میزائلوں اور ڈرونز سے دفاع کی حکمتِ عملی سے عام لوگوں کے آلات بھی متاثر لوگوں کے فون دکھا رہے ہیں کہ وہ سمندر میں یا سینکڑوں کلومیٹر دور موجود ہیں ایک ڈلیوری میں 10 سے 15 منٹ لگنے تھے ، 30 منٹ لگ گئے :ڈرائیور یہ خلل شاید ایرانی ڈرونز و میزائلوں کو ناکام کرنے کیلئے کیا گیا ردعمل ہے :ماہرین
دبئی (اے ایف پی)درست جی پی ایس جدید زندگی کا ایک اہم حصہ ہے ، لیکن ایران کی جنگ کے باعث متحدہ عرب امارات میں لوگوں کو یہ مسئلہ پیش آ رہا ہے کہ ان کے فون یہ دکھا رہے ہیں کہ وہ سمندر میں ہیں یا سینکڑوں کلومیٹر دور کسی دوسرے شہر میں موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ جی پی ایس جیمنگ اور سپوفنگ ہے ، جو میزائلوں اور ڈرونز سے دفاع کے لیے استعمال کی جانے والی ایک حکمتِ عملی ہے ۔ تاہم اس کے اثرات صرف دشمن کے ہتھیاروں تک محدود نہیں بلکہ عام لوگوں کے آلات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔دبئی میں رہنے والی ایک فرانسیسی خاتون نے کہا میں گاڑی چلاتے ہوئے نقشے استعمال کر رہی تھی، لیکن اچانک وہ مجھے عجیب و غریب راستوں پر لے جانے لگا۔انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد انہیں واپس مرکزی سڑک پر آنا پڑا اور اپنی موجودہ جگہ کا اندازہ لگانے کے لیے سڑک کے سائن بورڈز پر انحصار کرنا پڑا۔ کبھی کبھار ہونے والی اس پریشانی کے باوجود جی پی ایس سروسز کی عجیب معلومات جیسے ڈلیوری ڈرائیورز کا خلیج کے بیچوں بیچ دکھائی دینا -
سوشل میڈیا پر مذاق اور لطیفوں کا موضوع بن گئی ہیں۔دبئی میں کام کرنے والے یوگنڈا سے تعلق رکھنے والے ایک ڈلیوری ڈرائیور اینڈریو نے کہا کہ یہ مسئلہ اب اکثر پیش آنے لگا ہے ۔انہوں نے بتایا مثال کے طور پر ایک ڈلیوری جس میں 10 سے 15 منٹ لگنے تھے ، اس میں 30 منٹ لگ گئے ۔ جی پی ایس پہلے مجھے راستہ دکھاتا تھا، پھر اچانک رک
جاتا تھا۔ میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا تو وہ بار بار نیا راستہ بتانے لگتا، یہاں تک کہ آخرکار میں منزل تک پہنچ گیا۔کلیٹن سواپ جو سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ہوا بازی اور سکیورٹی کے ماہر ہیں، نے کہا کہ یہ خلل شاید ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو ناکام کرنے کے لیے کیا گیا ردعمل ہے ، کیونکہ یہ ہتھیار اپنے اہداف تلاش کرنے کے لیے جی پی ایس پر انحصار کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے لیے دو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں،جیمنگ جس سے جی پی ایس سگنل وصول کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔سپوفنگ جس میں کوئی غلط سگنل بھیج رہا ہوتا ہے جو جگہ کا غلط مقام بتاتا ہے ۔یہ اقدامات جی پی ایس سے رہنمائی حاصل کرنے والے ہتھیاروں کے لیے خلل پیدا کر سکتے ہیں۔جی پی ایس اور دیگر سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹمز غیر فعال ہوتے ہیں، یعنی یہ زمین کے مدار میں موجود کئی سیٹلائٹس سے ٹائمنگ سگنلز وصول کر کے اپنی موجودہ جگہ کا حساب لگاتے ہیں۔لیکن یہ سگنلز نسبتاً کمزور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے مضبوط، مقامی طور پر بھیجے جانے والے سگنلز کے ذریعے انہیں آسانی سے بلاک کیا جا سکتا ہے ۔موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے آغاز سے ، خلیج اور خلیج عمان میں تقریباً ایک ہزار بحری جہاز سیٹلائٹ نیویگیشن کی جیمنگ کی وجہ سے اپنی سمت کھو چکے ہیں، جس کا ذکر ڈمیٹریس ایمپاٹزڈیس نے کیا، جو سمندری حرکات کی نگرانی کرتے ہیں۔ان کے مطابق، اس کا مطلب یہ ہے کہ علاقے میں موجودنصف شپس متاثر ہوئے اور ان میں سے زیادہ تر اثرات متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل کے قریب دیکھے گئے ہیں۔ماہرین نے اے ایف پی کو بتایا کہ شپنگ خاص طور پر زیادہ خطرے میں ہے کیونکہ جدید موبائل فونز کے برخلاف، یہ ایک پرانے اور کمزور جی پی ایس بینڈ پر انحصار کرتی ہے ۔علاقے کے کچھ بحری جہاز سپوفنگ کا بھی شکار ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے بڑے تیل کے ٹینکرز ایسے دکھائی دے رہے ہیں جیسے وہ متحدہ عرب امارات یا ایران کے اندر خشک زمین پر ہوں۔