ایران کی بحری ناکہ بندی، آبنائے ہرمز سے 34 جہاز گزرگئے : ٹرمپ
ایران ڈیل کیلئے بیتاب، وہ تجارت نہیں کرپارہے ، ناکہ بندی کے قریب جو ایرانی جہاز آئیگا تباہ کردینگے :امریکی صدر،برطانیہ، فرانس کا ناکہ بندی میں ساتھ دینے سے انکار امریکا کے پاس ناکہ بندی کی صلاحیت ہی نہیں:ایران،عالمی منڈیوں کو نقصان پہنچے گا:روس، بوشہر نیوکلیئرپلانٹ سے روسی عملہ واپس،ہرمز سفارتکاری سے کھولیں:ترکیہ تنازعات بڑھانے کے بجائے حل کریں:چین، عالمی دفاعی مشن کا قیام ضروری،چند روز میں کانفرنس:فرانس،آبی گزرگاہیں سودے بازی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہئیں:قطر
تہران،واشنگٹن،لندن،پیرس(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی کردی، صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 34 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرگئے ہیں۔نیٹو اتحاد میں شامل برطانیہ اور فرانس نے ناکہ بندی میں امریکا کا ساتھ دینے سے انکارکردیا، چین نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے تنازعات بڑھانے کے بجائے حل کریں۔امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کردی گئی ہے ، جو بھی جہاز بغیر اجازت ناکہ بندی والے علاقے میں داخل ہوگا یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کرے گا، اسے روکاجاسکتا ہے ، اس کا راستہ تبدیل کیا جاسکتا ہے یا اسے قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کے وہ بحری جہاز جو ناکہ بندی کے قریب آئیں گے انہیں ختم کر دیا جائے گا،انہوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران کی بحریہ پہلے ہی تباہ ہو چکی ہے ، ان کے 158 جہاز مکمل طور پر تباہ کر دئیے گئے ہیں۔صرف چند فاسٹ اٹیک شپ باقی ہیں، جنھیں اب تک خطرہ نہ سمجھتے ہوئے نشانہ نہیں بنایا گیا۔
اگر ان میں سے کوئی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب آیا تو اسے فوراً تباہ کر دیا جائے گا،ٹرمپ نے کہا ابھی ہم نے ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور ان کا کاروبار نہیں ہو رہا،اس وقت کوئی لڑائی نہیں ہو رہی، اس تنازع سے نمٹنے کیلئے ان کی ٹائم لائن میں کوئی تبدیل نہیں ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا انھیں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے جہازوں کو باہر آتے دیکھنا پسند نہیں۔ٹرمپ نے کہا ایرانی اس وقت آبنائے میں کوئی تجارت نہیں کر پا رہے اور ہم اس صورتحال کو بڑی آسانی سے برقرار رکھیں گے ۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران ڈیل کیلئے بہت بیتاب ہے ۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا ایران بہت بیتابی سے معاہدہ کرنا چاہے گا۔ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے ۔ہمارے درمیان بہت سی چیزوں پر اتفاق ہو گیا تھا لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے ۔اب ایرانی رہنما معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اور آج صبح ہی انھیں معاہدے کیلئے ‘متعلقہ افراد’ کی کال موصول ہوئی تھی۔ایران کی بحری ناکہ بندی کے متعلق سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ‘حقیقت میں دنیا کو بلیک میل کر رہا ہے ’ اور وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کو استعمال نہیں کرتا کیونکہ اس کے اپنے تیل اور گیس کے ذخائر ہیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ بحری جہاز امریکی تیل کو ‘لوڈ اپ’ کرنے کے لیے امریکا پہنچ رہے ہیں۔اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ روز 34 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے جو کہ آبی گزرگاہ کے بندش کے آغاز سے لے کر اب تک کی سب بڑے تعداد ہے ۔امریکی وزیردفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ناکہ بندی کے دوران ایرانیوں کی جانب سے فائرنگ متوقع ہے مگر یہ اقدام دانشمندانہ ثابت نہیں ہوگا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف بحری محاصرے یا ناکہ بندی کے فیصلے کی حمایت کرے گا۔دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرنے والے امریکی بحری جہازوں کو ڈبو کر سمندر کی تہہ میں بھیج دیں گے ۔ایرانی فارن پالیسی اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے رکن علاؤالدین بروجردی نے کہا ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی کرنے کا امریکی بیان پرو پیگنڈا ہے ، امریکا کے پاس ناکہ بندی کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے ۔
آبنائے ہرمز کے قریب کسی بھی فوجی جہاز کی موجودگی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ایران کے فوجی ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی، انہوں نے کہا بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر امریکی پابندیاں غیرقانونی ہیں اور یہ عمل بحری قزاقی کے مترادف ہے ۔ ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کیلئے ایک مستقل نظام نافذ کرنے جا رہا ہے ، جس کے تحت سمندری نقل و حرکت کو منظم کیا جائے گا۔ادھر نیٹو کے اتحادی ممالک، جن میں برطانیہ اور فرانس شامل ہیں، نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے معاملے میں ٹرمپ کے ساتھ شامل نہیں ہوں گے ، جس سے پہلے ہی کمزور اتحاد میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے ۔برطانوی وزیراعظم کیئرسٹارمرنے کہا ہے کہ برطانیہ نے ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔برطانوی وزیراعظم نے کہا جتنا بھی دباؤ ہو کسی صورت جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ۔
برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرتا، اہم گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنا ناگزیر ہے ، کسی بھی کارروائی کیلئے قانونی جواز اور مکمل حکمت عملی ضروری ہے ۔برطانوی وزیراعظم نے مزید کہا تنازع کا سفارت کاری سے فوری اور پائیدار حل نکالنا ضروری ہے ۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا مشرقِ وسطیٰ کے تمام بنیادی مسائل کے مستقل حل تلاش کیے جائیں، سفارتی ذرائع کے ذریعے جلد از جلد ایک مضبوط اور دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے ، ایسا تصفیہ خطے کو ایک مستحکم فریم ورک فراہم کرے گا، جس کے تحت تمام فریق امن اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ تمام بنیادی مسائل کے مستقل حل تلاش کیے جائیں، جن میں ایران کی جوہری اور بیلسٹک سرگرمیوں، خطے میں اس کے عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات، آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا تعطل جہاز رانی کی فوری بحالی اور لبنان کی مکمل خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ امن کی راہ پر واپسی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا فرانس اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے ، جیسا کہ وہ تنازع کے آغاز سے ہی کرتا آیا ہے ۔ انہوں نے کہا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے دوست ممالک پر مشتمل عالمی دفاعی مشن کا قیام ضروری ہوگیا،آئندہ چند روز میں برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں وہ ممالک شریک ہوں گے جو ایک پُرامن، کثیر القومی مشن میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس مشن کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی ہے ۔ یہ مشن مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور تنازع کے فریقین سے الگ رہے گا اور حالات سازگار ہوتے ہی تعینات کیا جائے گا۔چین نے ناکہ بندی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا تنازعات کو دوبارہ بھڑکانے کے بجائے سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے ، امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے ترجمان چینی وزارتِ خارجہ لین جیان نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ چین اس بات کی اُمید کرتا ہے کہ جنگ بندی برقرار رہے گی، تنازعات کو دوبارہ بھڑکانے کے بجائے سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے گا۔چین اس بات کا خواہش مند ہے کہ خلیجی خطے میں جلد امن کی بحالی کے لیے سازگار حالات پیدا ہوں گے ۔
کریملن نے اعلان کیا ہے کہ روس امریکا کے ساتھ کسی ممکنہ امن معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ یورینیم کو وصول کرنے کے لیے تیار ہے ۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے یہ تجویز امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ رابطوں کے دوران پیش کی تھی۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ پیشکش اب بھی موجود اور قابلِ عمل ہے تاہم اس پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے عالمی منڈیوں کو نقصان پہنچے گا، اس حوالے سے ابھی بہت سی تفصیلات غیر واضح ہیں۔ادھر روس نے ایران کے واحد نیوکلیئر پلانٹ بوشہر سے تقریباً تمام عملہ واپس بلا لیا ہے ، جسے ماسکو کی مدد سے بنایا اور چلایا جا رہا تھا۔ روسی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ الیکسی لیخاچیوف بتایا کہ 108 افراد کو نکال لیا گیا ہے جبکہ صرف 20 اعلیٰ افسر اور حفاظتی عملہ باقی ہے ۔
امریکی اور اسرائیلی جنگ کے خطرات کے سبب یہ اقدام کیا گیا۔ ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ پلانٹ کے قریب حملے چرنوبل سے بھی زیادہ خطرناک ریڈیولوجیکل سانحے کا سبب بن سکتے ہیں۔ پلانٹ میں ایک ہزار میگا واٹ کا ری ایکٹر موجود ہے اور علاقے میں جنگ کے دوران چار حملے ہو چکے ہیں۔ قطر نے ایران کو کہا ہے کہ آبی گزرگاہوں کو سودے بازی کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ۔قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے ، قطر کی وزارت خارجہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا۔وزارت کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی کی کوششوں، بحری سلامتی اور بحری راستوں میں آزادانہ آمدورفت پر بات چیت کی۔
قطر کے وزیر خارجہ نے زور دیا کہ آبی گزرگاہوں کو کھلا رکھنا ضروری ہے اور انہیں دباؤ ڈالنے کے حربے یا سودے بازی کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام فریقین کو جنگ کے خاتمے کے لیے جاری ثالثی کی کوششوں کا مثبت جواب دینا چاہیے ۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانی نے کہا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا کا یکطرفہ اقدام ہے ہمیں شریک ہونے کا نہیں کہا گیا۔ترک وزیرخارجہ حقان فدان نے کہا آبنائے ہرمز کو سفارت کاری سے ہی کھولا جانا چاہیے ، بین الاقوامی فورس کی تعیناتی میں کئی مشکلات درپیش ہیں۔سپین کی وزیر دفاع مارگریٹا روبلس نے کہا ہے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی \\\"بے معنی\\\" ہے ۔ یہ ایک اور واقعہ ہے جس میں ہمیں گھسیٹا گیا ہے ۔ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی اور عالمی توانائی سپلائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔