اسٹاک ایکسچینج: شدید مندی، انڈیکس 6600پوائنٹس گرگیا

اسٹاک ایکسچینج: شدید مندی، انڈیکس 6600پوائنٹس گرگیا

شیئرز کی فروخت ترجیح،انڈیکس 160591پربند،671ارب روپے خسارہ کاروباری حجم15فیصد کم رہا،آئندہ بھی انڈیکس پر دباؤ رہ سکتا ،سلمان نقوی

کراچی(رپورٹ :حمزہ گیلانی)امریکا کی جانب سے ایران کو دھمکی خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر میں تجارتی و کاروباری لہر کا دم توڑ گئی، دوسری جانب عالمی سطح پر پٹرولیم قیمتوں کادوبارہ بڑھنا ایشیائی اسٹاک مارکیٹس سمیت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی کاروباری ہفتے کے پہلے روز شدید متاثر کرگئی ۔تفصیلات کے مطابق پیر کو ٹریڈنگ کا آغاز 5ہزار 373 پوائنٹس کی شدید گراوٹ سے 1 لاکھ 61 ہزار 837 کی حد سے ہوا۔دن بھر 100 انڈیکس مسلسل ریڈ زون میں ٹریڈ کرتا رہا اور سرمایہ کار دن بھر شیئرز فروخت کرنے کو ہی ترجیح دیتے رہے ،شدیدمندی کے سبب 78.05فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 671 ارب ڈوب گئے ۔مارکیٹ کیپٹلائزیشن 18 ہزار 473 ارب سے کم ہوکر 17 ہزار 802 ارب تک گرگئی ۔ مشرق وسطیٰ کے جنگی و تجارتی حالات کے منفی عوامل اسٹاک مارکیٹ کی بلو چپ کمپنیوں پر قہر بن کر ٹوٹے اوراسٹاک ٹریڈرز دن بھرآئل اینڈ گیس،انرجی ، سیمنٹ ، ریفائنری اور ٹیلی کام کمپنیوں کے شیئرز فروخت کرتے رہے ۔

اسی سبب ایک موقع پر 7ہزار 32 پوائنٹس کی مندی بھی واقع ہوئی۔کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 6600 پوائنٹس کی کمی سے 160591 پر بند ہوا، اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 2125پوائنٹس کی کمی سے 48464 پوائنٹس اور آل شیرز انڈیکس 3599 پوائنٹس کی کمی سے 95972 پوائنٹس پر بند ہوا ۔ کاروباری حجم 15.10فیصد کم رہا ۔ اسٹاک ماہر سلمان نقوی نے دنیا نیوز کو بتایا کہ آئندہ دنوں میں بھی انڈیکس پر دباؤ قائم رہ سکتا ہے ، علاوہ اسکے کہ امریکا اور ایران کے مذاکرات جلد دوبارہ منعقد ہوں اور مثبت پیشرفت سے عالمی سطح پر پٹرولیم قیمتوں میں کمی واقع ہوجائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں