ٹرمپ بند گلی میں پھنس گئے

ٹرمپ بند گلی میں پھنس گئے

ایران کی وسیع جوابی صلاحیت کا درست اندازہ نہ لگا سکے یہ مشکل آڑے آرہی لڑائی خود چھیڑی مگراب اسے ختم کر نے کیلئے ایران ،اسرائیل کی رضامندی چاہیے جتنی دیر یہ جنگ جاری رہے گی ،نقصان بڑھتا جائے گا، تجزیہ کاروں کی رائے خلیج فارس میں استحکام کیلئے ایران کے ساتھ کسی حد تک مفاہمت ضروری

 واشنگٹن (اے ایف پی)واضح اہداف اور جنگ کے اختتام کی حکمتِ عملی طے کرنے میں ناکامی اور امریکی عوام کو ایران کے خلاف نئی جنگ پر قائل نہ کر پانے کےباعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ محض چند ہفتوں کے اندر خود کو ایک بند گلی میں پھنسا ہوا پا رہے ہیں۔صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب منگل کے روز امریکی انسدادِ دہشت گردی کے ایک سینئر عہدیدار نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کھلے عام کہا کہ ایران "ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں" اور وہ "اپنے ضمیر کے مطابق ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے ۔"صدر ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کو "بری طرح کمزور" کر دیا ہے ، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ فتح کا اعلان کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔تاہم ریپبلکن رہنما اب تک ایسا کرنے سے گریزاں ہیں - اور اس کی ایک واضح وجہ بھی ہے ۔جنگ کا اختتام یکطرفہ نہیں ہوتا؛ اس کے لیے دونوں فریقوں کی رضامندی درکار ہوتی ہے ، جب تک کہ مخالف مکمل طور پر ہتھیار نہ ڈال دے ۔ ایران ، جو 28 فروری سے شروع ہونے والے شدید فضائی حملوں کے باعث عسکری اور سیاسی طور پر کمزور ہو چکا ہے ، نے ہتھیار ڈالنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا۔اگرچہ ٹرمپ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکا نے ایرانی بحریہ، اس کے میزائل نظام اور قیادت کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا ہے

، لیکن وہاں کے ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ ایران کی وسیع جوابی صلاحیت کا درست اندازہ نہ لگا سکے ۔ممکن ہے اصل مشکل یہی ہو جو انہیں درپیش ہے ۔جیسے ہی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہوئی، مشرقِ وسطیٰ میں لبنان سے لے کر خلیجی خطے تک کشیدگی پھیل گئی اور تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں-اسی دوران عراق میں قائم امریکی سفارت خانے پر بھی حملے کیے گئے ۔یوں امریکی صدر کو اسرائیل کا ساتھ دینے کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے ، کیونکہ انہوں نے نہ تو اس اقدام کے لیے کوئی باقاعدہ اجازت حاصل کی اور نہ ہی اپنے دیگر عالمی حلیف ممالک سے مشاورت کی۔یورپی ممالک اور دوسرے حلیفوں نے آبنائے ہرمز میں مدد کے لیے کی گئی درخواستوں کو نرمی سے رد کر دیا-یہ اہم سمندری گزرگاہ عملاً ایران کی جانب سے بند کر دی گئی ہے ۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ "اگرچہ امریکا نے اس تنازع کا آغاز خود کیا، اس کے ختم ہونے کے لیے اسرائیل اور ایران دونوں کی رضامندی ضروری ہے ۔"انہوں نے مزید کہا، "جتنی زیادہ دیریہ جنگ جاری رہے گی، اس کے فائدے اور نقصان کے توازن میں نقصان کی طرف جھکاؤ بڑھتا جائے گا۔"امریکا کے لیے ایران کو طویل مدتی کمزور کرنے کے علاوہ، فتح کا مطلب ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک بحال کی جائے ، تاکہ عالمی سطح پر تیل کی فراہمی دوبارہ معمول پر آ سکے ، اور تہران کے حملے اس کے ہمسایہ ممالک پر بند ہوں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف فوجی طاقت کے ذریعے ممکن نہیں ہوگا۔سفارتی راستہ کافی حد تک محدود ہو گیا ہے ، لیکن یہ ابھی بھی ایک اختیار کے طور پر موجود ہے اور جزوی طور پر ایران کی حسن نیت پر منحصر ہے ۔سوال یہ ہے کہ کون میز پر آئے گا؟سینا توسّی، سینئر فیلو برائے سینٹر برائے بین الاقوامی پالیسی، نے اے ایف پی کو ای میل میں بتایا:"اس وقت کوئی مکمل حل موجود نہیں، صرف کم نقصان دہ حل موجود ہیں۔

" "سب سے حقیقت پسندانہ راستہ یہ ہے کہ تنازع کو گفت و شنید کے ذریعے کم کیا جائے ، تاکہ تمام فریق اپنی عزت برقرار رکھ سکیں۔ امریکا کہہ سکتا ہے کہ اس نے ایران کی صلاحیتوں کو کمزور کیا، اور ایران یہ موقف اختیار کرسکتا ہے کہ اس نے دباؤ برداشت کیا اور ثابت کر دیا کہ جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ،" انہوں نے مزید کہا، "خلیج فارس میں استحکام کے لیے بالآخر ایران کے ساتھ کسی حد تک مفاہمت ضروری ہے ۔"مونا یعقوبیان، جو مرکز برائے حکمت عملی اور بین الاقوامی مطالعات میں مشرق وسطیٰ کے پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ اس وقت خطہ "اپنے سب سے بھیانک منظرنامے " کا سامنا کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا، "خلیجی حکومتوں کو ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا جو ایران کی مستحکم علاقائی موجودگی کو تسلیم کرے ۔"

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں