ایران جنگ: امریکی انٹیلی جنس چیف اور ٹرمپ کے موقف میں بڑا تضاد

ایران جنگ: امریکی انٹیلی جنس چیف اور ٹرمپ کے موقف میں بڑا تضاد

تہران میں حکومت کمزور ہوئی ختم نہیں ، یورینم افزودگی کی کوشش نہیں کی تھی :ڈائریکٹرٹلسی گبارڈ سینیٹ کمیٹی میں ڈائریکٹر سی آئی اے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا ، ٹرمپ کو جوابی حملو ں کا بتایا تھا:ذرائع

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکی انٹیلی جنس چیف نے بدھ کو سینیٹ کے سامنے بیان دیا کہ ایران نے جون 2025 میں امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد اپنے یورینیم افزودگی کے منصوبے کی بحالی کی کوئی کوشش نہیں کی۔یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جاری جنگ کے جواز کے مؤقف سے متصادم ہے ۔قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر ٹلسی گبارڈ نے سینیٹ کے لیے تیار کیے گئے بیان میں کہا:"آپریشن 'مڈ نائٹ ہتھوڑا' کے نتیجے میں ایران کا جوہری افزودگی پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سے افزودگی کی صلاحیت کی بحالی کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔" بعد ازاں انہوں نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سالانہ اجلاس میں کہا کہ ایران کی حکومت 28 فروری سے جاری جنگ کے بعد کمزور ضرور ہوئی ہے ، لیکن اب بھی برقرار ہے ، ایران امریکی اور اتحادی ممالک کے مفادات پر حملے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر ٹلسی گبارڈ نے بدھ کو سینیٹ میں تقریباًڈھائی گھنٹے سماعت میں شرکت کی۔سماعت میں چین، روس، شمالی کوریا اور ایران کو سب سے بڑے حریف قرار دیا گیا، لیکن زیادہ تر توجہ ایران کی جنگ پر مرکوز رہی، جو اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے ۔سینیٹرز ، جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کچھ ریپبلکن اتحادی اور ڈیموکریٹس شامل ہیں ، نے کہا کہ وہ اس مہم کے بارے میں مزید معلومات چاہتے ہیں، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لاکھوں کی زندگیوں میں خلل پڑا ہے اور توانائی اور سٹاک مارکیٹس متاثر ہوئی ہیں۔ڈیموکریٹس نے خاص طور پر شکایت کی ہے کہ کانگریس کو اس تنازع کے بارے میں مناسب معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس پر امریکی ٹیکس دہندگان کا اربوں ڈالر خرچ ہو رہا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماضی کے دو ہفتوں میں دی گئی خفیہ بریفنگز کے بجائے عوامی سماعت کے ذریعے وضاحت پیش کی جائے ۔کولوراڈو کے ڈیموکریٹ سینیٹر مائیکل بینیٹ نے کہا، "مکمل غیر واضح صورتحال سب کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے ۔

"یہ بیان انہوں نے ایران سے خطرے کے خاتمے کے امریکی منصوبے پر سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے ساتھ سخت گفت و شنید کے بعد دیا۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس سے واقف ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ ایران پر حملہ کرنے سے خلیج فارس میں امریکا کے اتحادی ممالک پر جوابی حملے ہو سکتے ہیں، جبکہ صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ تہران کے ردعمل نے انہیں حیران کیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے دعوے کیے جو امریکی انٹیلی جنس رپورٹس سے ثابت نہیں ہوئے ، مثلاً ایران جلد ایسا میزائل تیار کرے گا جو امریکا کو نشانہ بنا سکتا ہے ، یا اسے ایٹم بم بنانے میں دو سے چار ہفتے لگیں گے ۔انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ صدر کو آپریشن سے پہلے بریف کیا گیا تھا کہ تہران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے ، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ایک اہم شپنگ راہداری ہے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں