فضائی حدود کے تحفظ کا معاہدہ ،یوکرینی صدر کی اچانک سعودی عرب آمد

فضائی حدود کے تحفظ کا معاہدہ ،یوکرینی صدر کی اچانک سعودی عرب آمد

ایران میں جاری جنگ کے باعث خلیجی ممالک کو یوکرین کی ہتھیار سازی کی مہارت میں دلچسپی ہے یوکرینی ڈرون ماہرین پہلے ہی خلیجی ممالک میں تعینات،سعودیہ میں اہم ملاقاتیں طے ہیں:زیلنسکی

 کیف (اے ایف پی )یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی جمعرات کو غیر اعلانیہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ۔ اس وقت ایران میں جاری جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک یوکرین کی ہتھیار سازی کی مہارت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ممالک ایک معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں، جس کا تعلق "سلامتی کے تعاون ، خاص طور پر فضائی حدود کے تحفظ" سے ہے ۔ اب تک یہ واضح نہیں ہوا کہ اس معاہدے میں اور کون کون سی تفصیلات شامل ہوں گی۔کیف حکومت نے روسی ڈرون تباہ کرنے میں اپنی مہارت کو خلیجی ممالک کی مدد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ خلیجی ممالک پر وہی ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز حملہ کر رہے ہیں، جو روس یوکرین پر استعمال کرتا ہے ۔یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ200سے زیادہ یوکرینی ماہرین برائے ڈرونز کو خلیجی ممالک، بشمول سعودی عرب بھیجا گیا ہے ۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب امر یکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران کی جانب سے جوابی ڈرون اور میزائل حملے ہوئے ۔زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر لکھا "سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ اہم ملاقاتیں طے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے جدہ میں ایک عہدیدار سے ملاقات کی ویڈیو بھی شیئر کی۔سعودی عرب جس کے امریکا کے ساتھ قریبی سلامتی تعلقات ہیں، ایرانی ڈرونز کے نشانے پر رہا ہے ۔یوکرین نے تجویز دی ہے کہ وہ اپنے ڈرون روکنے والے آلات خلیجی ممالک کے ان مہنگے فضائی دفاعی میزائلز کے بدلے دے گا جو ایرانی ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ کیف کا کہنا ہے کہ انہیں یہ زیادہ ضرورت ہے تاکہ روسی میزائل حملوں سے بچا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں