ایران نے 10 تیل برادر جہازوں کو گزرنے دیا، جن پر پاکستانی پرچم تھے، یہ ہمارے لیے تحفہ، مذاکرات اچھے چل رہے ہیں : ٹرمپ نے ایران کو مزید 10 روز دیدیئے
6اپریل تک توانائی تنصیبات پر حملہ نہیں کریں گے ،اقدام ایران کی درخواست پر کیا،ایرانی تیل پرکنٹرول کا آپشن موجود :امریکی صدر،امریکا کے امن منصوبے کا جواب دے دیا :ایران امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو ثالث مان لیا ،اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو شہید کرنے کا دعویٰ ،ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے پاکستانی سمیت 2جاں بحق
واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مزید 10 روز تک نہ کرنے کا اعلان کردیا،ان کا کہناتھاکہ ایران کیساتھ مذاکرات اچھے چل رہے ہیں یہ اقدام تہران کی درخواست پر اٹھایا گیا ،صدرٹرمپ کامزید کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے ،ایران معاہدہ کرنے کی بھیک مانگ رہا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ کیلئے امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ 15 نکاتی امن معاہدہ ثالثی کا کردار ادا کرنے والی پاکستانی حکومت کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا ۔یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ طور پر پاکستان کا نام لیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ دوسری جانب ایران نے امریکا کے 15 نکاتی امن منصوبے کا جواب دے دیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہاکہ وہ6 اپریل تک ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے روک رہے ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ اقدام ایران حکومت کی درخواست پر کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے توانائی تنصیبات پر حملے 5 روز کیلئے روکنے کا اعلان کیا تھا جس کی مدت آج جمعہ کے روز ختم ہونا تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے اور فیک نیوز میڈیا کی جانب سے جاری خبروں کے برعکس یہ بات چیت عمدگی سے جاری ہے ۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران کہاکہ اب ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے جوہری عزائم کو مستقل طور پر ترک کرے اور ایک نئے راستے پر چلنے کا انتخاب کرے ۔ دیکھیں گے کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، اگر نہیں کرنا چاہتے تو ہم ان کیلئے سب سے بڑا خوف بن جائیں گے، تب تک ہم اپنے حملے جاری رکھیں گے ۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا ایک ممکنہ آپشن ہو سکتا ہے، انہوں نے اس کا موازنہ وینزویلا کے ساتھ کیا، جہاں امریکا نے نیکولس مادورو کو ہٹانے کے بعد تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھایا تھا۔
صدر ٹرمپ نے کابینہ کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک آپشن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے راستے دس تیل بردار جہازوں کو گزرنے دے رہا ہے ، جو مذاکرات میں حسنِ نیت کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ نے وضاحت کی کہ انہوں نے پہلے اس واقعے کو ایران کی طرف سے ایک تحفہ قرار دیا تھا۔ امریکی صدر کے مطابق ایران نے کہاکہ ہم یہ دکھانے کے لئے کہ ہم سنجیدہ اور مستحکم ہیں، آپ کے آٹھ تیل کے جہاز جانے دیں گے ، آٹھ بڑے جہاز، آخرکار یہ تعداد دس ہو گئی اور یہ جہاز غالباً پاکستانی پرچم والے تھے ۔ خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے جنگ ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر "پندرہ نکات پر مشتمل ایک فہرست" ایران کو بھیجی ہے اور اس کے آثار مل رہے ہیں کہ تہران معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ایک مغربی سفارتکار نے کہا کہ امریکا نے جنگ کے مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ مطالبات والا موقف اختیار کیا ہے اور اس بارے میں شبہات ہیں کہ آیا واشنگٹن واقعی جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا صرف وقت خرید رہا ہے تاکہ مارکیٹوں کو استحکام دیا جا سکے حالانکہ وہ ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکا کے 15 نکاتی امن منصوبے کا جواب دے دیا ہے اور اب اسے امریکا کے جواب کا انتظار ہے ۔ ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکی نکات کو بدھ کی رات سینئر ایرانی حکام اور ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے نے تفصیل سے دیکھ لیا تھا ، یہ صرف امریکا اور اسرائیل کے مفادات کو پورا کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فی الحال امن مذاکرات کیلئے کوئی حقیقت پسندانہ منصوبہ موجود نہ ہونے کے باوجود سفارت کاری ختم نہیں ہوئی۔ایک باخبر عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مندرجہ ذیل شرائط رکھی گئی ہیں کہ دشمن کی جارحیت اور قتل و غارت کی کارروائیاں بند کی جائیں،ایسے حالات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ جنگ دوبارہ نہ ہو۔
ہرجانہ اور جنگی معاوضہ کا واضح طور پر تعین ہونا چاہئے اور اس کی ضمانت دی جائے ۔خطے میں ایران کے اتحادیوں اور پراکسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام محاذوں اور خطے میں مزاحمتی گروپوں کے خلاف کارروائیاں ختم کی جائے ۔ایرانی عہدیدار نے تسنیم نیوز ایجنسی کو یہ بھی بتایا ہے آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری اس کا فطری اور قانونی حق ہے ۔پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکااور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت اسلام آباد کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کی صورت میں ہو رہی ہے جبکہ ترکی اور مصر جیسے دیگر ممالک بھی ثالثی کے اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔ تاہم ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات ہو رہے ہیں،فی الحال ہماری پالیسی مزاحمت جاری رکھنے اور ملک کا دفاع کرنے کی ہے اور ہمارا کوئی ارادہ مذاکرات کرنے کا نہیں ہے۔
تہران ،تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک )اسرائیل نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو شہید کرنے کا دعویٰ کردیا تاہم ایرانی حکام یا پاسداران انقلاب نے اس کی تاحال تصدیق نہیں کی ۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ تنگسیری آبنائے ہرمز کی بندش اور بمباری کی دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے براہ راست ذمہ دار تھے اور انہیں اڑا دیا گیا ہے جبکہ ایرا نی بحریہ کے متعدد دیگر سینئر حکام بھی مارے گئے ہیں۔ایرانی میڈیا کا کہناتھاکہ اسرائیلی حملے میں شہری علاقے ہدف تھے ، ایک عمارت تباہ ہوگئی ، جنوبی خراسان میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔ایران نے گزشتہ روز اسرائیلی شہر حیفا اوردیمونا پر حملے کئے جس میں متعدد اسرائیلی زخمی اورکئی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔
اسرائیل کا کہناہے کہ کئی ایرانی میزائل فضا میں تباہ کردئیے گئے تاہم اسرائیل نے ایلیٹ اہلکار کی ہلاکت کا اعتراف کرلیا۔ ابوظہبی میں میزائل حملے سے ایک پاکستانی سمیت 2افراد جاں بحق اور 3زخمی ہوگئے ۔اماراتی حکام کاکہناہے کہ ایرانی بلیسٹک میزائل کو تباہ کردیا گیاتھاتاہم سویحان سٹریٹ میں میزائل کا ملبہ گرنے سے نقصان ہوا اورکئی گاڑیوں کوبھی نقصان پہنچا ۔مقامی حکام نے اس حوالے سے ایک اپڈیٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے ایک شخص کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ دوسرا شخص انڈین ہے جبکہ زخمیوں میں متحدہ عرب امارات، اردن اور انڈیا کے ایک ایک شہری شامل ہیں۔سعودی عرب کاکہناہے کہ مشرقی صوبے میں 8 ایرانی ڈرون تباہ کردئیے ۔ اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کیساتھ لڑائی میں گزشتہ روز دو فوجی ہلاک ہو گئے ،2مارچ سے جاری جھڑپوں میں اب تک چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔