توانائی اور معیشت پر اہم اجلاس، کفایت شعاری فنڈ کیلئے 100 ارب کی منظوری : نجی شعبے کے ذریعے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ
صدرزرداری کی زیرصدارت اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف،فیلڈ مارشل عاصم منیر شریک،ایندھن کی بچت،پبلک ٹرانسپورٹ، شیئرڈ رائیڈ سسٹم کے فروغ پر زور وزیراعظم سے چینی سفیرکی ملاقات، ملائیشین ہم منصب کا فون، شہباز شریف کراچی پہنچ گئے ، شیری رحمن کے گھر جا کر تعزیت، ایم کیو ایم رہنما ملے ،تحفظات کا اظہار
اسلام آباد،کراچی(سٹاف رپورٹر،نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایوانِ صدر میں ایک اعلی ٰسطح کے مشاورتی اجلاس کی صدارت کی جس میں تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں معیشت اور توانائی کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔ دیگر شرکامیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو ، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر خزانہ اورنگزیب، وزیر توانائی و پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور سیکرٹری خزانہ شامل تھے ۔ اجلاس میں عالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ وزرا نے اجلاس کو بریفنگ دی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے ، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے دیگر شعبوں پر اثرات کو کم کرنے اور کفایت شعاری اقدامات کے ذریعے اخراجات کے دباؤ کم کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اجلاس میں وسیع تر علاقائی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی جس میں پاکستان کی سکیورٹی، معاشی منظرنامے اور غذائی تحفظ پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اپنائی جائے اور پالیسی فیصلوں میں استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے عوامی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔ اجلاس میں ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجز کے پیشِ نظر قومی اتفاقِ رائے برقرار رکھنے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ معاشی نظم و نسق، توانائی منصوبہ بندی، غذائی تحفظ اور مجموعی سکیورٹی پہلوؤں کو ہم آہنگ رکھنا ناگزیر ہے تاکہ اس مشکل صورتحال کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکے۔ اجلاس میں عوامی آگاہی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ ایندھن کے استعمال میں کمی، عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ اور مشترکہ سفری نظام (شیئرڈ رائیڈز)کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔قبل ازیں شہباز شریف نے صدر زرداری سے ملاقات کی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں ،ملکی سکیورٹی، معاشی صورتحال اور تونائی بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار پر صدرکو اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم اپناکردار اداکرنے کو حاضر ہیں، پاکستان نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ دنیا میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار اداکرنے کے لیے تیار ہے۔دریں اثنا وزیراعظم سے چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔
شہباز شریف نے ٹو سیشنز کے کامیاب انعقاد پر چینی قیادت کو مبارکباد پیش کی اور صدر شی جن پنگ، وزیر اعظم لی کیانگ اور وزیر خارجہ وانگ یی کا یوم پاکستان کی پرتپاک مبارکباد دینے پر شکریہ ادا کیا۔ چین کی مستحکم اقتصادی حمایت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے زراعت، صنعتی تعاون اور بنیادی ڈھانچے کے ترجیحی منصوبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سی پیک ٹو کو آگے بڑھانے کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ سفیر جیانگ نے پاکستان کی اقتصادی استقامت اور اصلاحات کی کوششوں کو سراہا، اور چین کی تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے تعاون کا اعادہ کیا۔ دونوں اطراف نے جاری ملاقاتوں پر اطمینان کا اظہار کیا اوراعلیٰ سطح رابطوں کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے خطے میں کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا۔ شہباز شریف کو ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی ٹیلیفون کال بھی موصول ہوئی۔
وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے مضبوط پیغام پر ملائیشیا کے وزیر اعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔ شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیر اعظم کو امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے برادر خلیجی ممالک اور ایران کے رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چیت سمیت تازہ ترین سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی شاندار قیادت کی تعریف کرتے ہوئے ملائیشیا کے وزیراعظم نے انہیں مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی گفتگو سے بھی آگاہ کیا جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کی امن کوششوں میں ملائیشیا کی مکمل حمایت کی پیشکش کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ پاکستان خطے کی موجودہ صورتحال میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مخلصانہ اور حقیقی کوششیں جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے آپسی رابطے بحال رکھنے پر اتفاق کیا۔شہباز شریف نے رہائشی شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات، کم لاگت گھروں کی فراہمی اور شعبے میں روزگار کے اضافے پر جائزہ اجلاس کی صدارت بھی کی، شہبازشریف نے کہا اپنا گھر ہر شہری کا حق ہے ، اس حوالے سے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ملکی رہائشی شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد موجود ہے ، اس سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کیلئے سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔
بعد ازاں شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچ گئے ، انہوں نے پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کی رہائش گاہ پر جا کر ان سے ان کی صاحبزادی ماروی ملک کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور کہا جواں عمر اولاد کے بچھڑنے کا غم والدین کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے جسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ اﷲمرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور اہل خانہ کو صبر عطا فرمائے ۔ شہباز شریف نے سندھ اسمبلی کی رکن فریال تالپور کی رہائش گاہ پر جا کر ان کی صاحبزادی عائشہ تالپور کی شادی پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی۔ شہباز شریف سے ایم کیو ایم رہنماؤں نے بھی ملاقات کی جس میں ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔وفدمیں میں چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال اور سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری شامل تھے ۔
ملاقات میں گورنر سندھ نہال ہاشمی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ اور راناثنااللہ بھی شریک تھے ۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے متعلق گفتگو کی گئی۔ ایم کیو ایم نے وزیراعظم سے 28ویں آئینی ترمیم لانے اور مقامی حکومتوں سے متعلق ایم کیو ایم کی مجوزہ آئینی ترمیم کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ،ایم کیو ایم وفد نے کہا کہ خطے کی صورتحال دیکھتے ہوئے ایم کیو ایم کی مجوزہ آئینی ترمیم وقت کی اہم ضرورت ہے ۔وزیر اعظم نے ایم کیو ایم کے مطالبات کو جائز قرار دیا جبکہ ایم کیو ایم کے مطالبات پر پارٹی وفد کی آئندہ ہفتے وزیراعظم سے ایک اور ملاقات طے کی گئی۔ وزیراعظم نے گورنر سندھ کو کہا کہ ایم کیو ایم کو کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے ۔ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم شہبازشریف کے کفایت شعاری فنڈ کیلئے 100 ارب روپے کی منظوری دیدی ۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس دوران کفایت شعاری فنڈ کیلئے 100 روپے کی منظوری دی ۔عوام کو مہنگائی سے بچانے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کیلئے اقدام کیا گیا۔اجلاس میں کفایت شعاری فنڈ کیلئے رقم ترقیاتی فنڈز سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وزیر خزانہ نے اہم منصوبوں کو متاثر نہ کرنے کی ہدایت کر دی ۔ای سی سی اجلاس میں گندم خریداری پالیسی 26-2025 پر بھی غور کیا گیا، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نجی شعبے کے ذریعے گندم خریدنے کی منظوری بھی دے دی۔وزارت خزانہ نے کہا کہ حکومت نے دس لاکھ ٹن تک گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ای سی سی نے کسانوں، مارکیٹ اور معیشت میں توازن برقرار رکھنے پر زور دیا جبکہ ملک میں گندم ذخائر کے حوالے سے محتاط حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی گئی ۔اجلاس میں بدلتی علاقائی صورتحال کے مطابق فیصلے کرنے پر غور کیا گیا۔دریں اثنا حکومت کی جانب سے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں کی گئی ایک سو ارب روپے کی کٹوتی کی تفصیلات سامنے آگئیں ،دستاویز کے مطابق صوبوں و خصوصی علاقہ جات کے ترقیاتی بجٹ میں سب سے زیادہ تقریباً 25 ارب روپے کم کردئیے گئے ۔ ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی بجٹ میں بھی 10 ارب روپے زیادہ کا کٹ لگا دیا گیا ہے ۔آزادکشمیر و گلگت بلتستان کے ترقیاتی بجٹ میں 8 ارب 21 کروڑ روپے ، صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 10 ارب 17 کروڑروپے کی کٹوتی کردی گئی، خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی بجٹ میں6 ارب 45کروڑ روپے کی کٹوتی کی گئی۔
دستاویز کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی بجٹ میں7ارب 3 کروڑ روپے جبکہ بجلی کے ترقیاتی بجٹ میں 9 ارب روپے سے زائد کی کٹوتی کی گئی، آبی وسائل کے منصوبوں کے بجٹ میں 12 ارب88 کروڑ روپے کا کٹ لگ گیا۔وفاقی تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں 3 ارب 21 کروڑ روپے کی کٹوتی ہوگی، ایچ ای سی کے ترقیاتی بجٹ میں سے 4ارب 22کروڑروپے کی کٹوتی، آئی ٹی کے ترقیاتی بجٹ میں 2ارب22 کروڑ روپے کم کردئیے گئے ۔وزارت داخلہ کے ترقیاتی بجٹ میں ایک ارب39 کروڑروپے ، وفاقی وزارت صحت کے بجٹ میں ایک ارب41 کروڑ روپے کی کٹوتی کی گئی۔ ریلویز کے ترقیاتی بجٹ میں 2ارب 24کروڑ روپے کا کٹ لگا دیا گیا۔وزارت دفاع کے ترقیاتی بجٹ میں ایک ارب روپے سے زائد کی کٹوتی کردی گئی، ریونیو ڈویژن کے ترقیاتی بجٹ میں ایک ارب71کروڑروپے کی کٹوتی کی گئی۔ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ترقیاتی بجٹ میں ایک ارب62 کروڑ روپے کی کٹوتی ہوگی۔کٹوتی کی رقم پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کی سبسڈی میں ایڈجسٹ کی جائے گی ۔