سعودی عر ب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا

 سعودی عر ب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا

ایران کے روزانہ حملوں سے دونوں ملکوں میں باقی رہ جانے والا اعتماد بھی ختم بحیرہ احمر سعودیہ کا آخری راستہ ، ایران نے محاذ کھولا تو ریاض جوابی کارروائی کریگا

ریاض(اے ایف پی )سعودی عرب تقریباً ایک مہینے سے ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کی لہر برداشت کر رہا ہے ، جو اس کے شہروں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ  بنا رہے ہیں، ابھی تک سعودی عرب نے جوابی کارروائی نہیں کی تاہم ایران کی طرف سے بحیرہ احمر میں کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد سعودی عرب کو اس تنازع میں فعال کردار اختیار کرنے پر غور کرنا پڑ سکتا ہے ، یہ سمندر سعودی عرب کا آخری بحری راستہ ہے جس کے ذریعے وہ خام تیل کی ترسیل کرتا ہے ،بدھ کی رات، جب ہزاروں امریکی فوجی خلیج کی جانب جا رہے تھے ، ایک ایرانی اہلکار نے کہا کہ اگر امریکا ایران پر زمینی حملہ کرتا ہے تو ایران بحیرہ احمر پر نیا محاذ کھول دے گا،ایرانی اہلکار نے تسنیم ایجنسی کو بتایا: "باب المندب دنیا کے سب سے زیادہ سٹراٹیجک راستوں میں سے ایک ہے ، اور ایران کے پاس اسے مکمل نشانہ بنانے کی صلاحیت اور ارادہ دونوں موجود ہیں،"سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں پٹرول لائن کے ذریعے ہرمز کی بند شدہ بحری گزرگاہ کو بائی پاس کرتے ہوئے خام تیل کی ترسیل جاری رکھی ہے ۔

اگر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی یمن سے بحیر ہ احمر میں لڑائی میں شامل ہوں، تو یہ سمندر کے ذریعے عالمی بحری ٹریفک کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے ، 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملوں اور غزہ میں جنگ کے دوران، حوثیوں نے کبھی کبھار میزائل اور ڈرون داغ کر بحیرہ احمر میں نقل و حرکت روک دی تھی، سعودی دفاعی ماہر ہشام الغنام نے کہا: " سعودی عرب اب بھی ایران-اسرائیل-امریکا کی جنگ میں محتاط غیرجانبداری برقرار رکھے ہوئے ہے ، اگر حوثی سعودی اثاثوں پر حملہ کریں، تو ریاض دفاعی اتحاد کی حمایت یا محدود جوابی کارروائی کی طرف بڑھ سکتا ہے ،"ایک سینئر سعودی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا: "سعودی عرب ہمیشہ اس تنازع کا پرامن حل چاہتا رہا ہے ، حتیٰ کہ اس کے شروع ہونے سے پہلے بھی ۔"تاہم جنگ کے طویل ہونے کے ساتھ سعودی عرب کے صبر کا پیمانہ لبر یز ہوتا جارہا ہے ۔ ایران کے روزانہ حملوں نے دونوں ملکوں کے درمیان باقی رہ جانے والا اعتماد بھی ختم کر دیا ہے ۔سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان نے کہا: "ہم نے یہ حق محفوظ رکھا ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کریں اور جب وقت آئے گا، سعودی قیادت ضروری فیصلہ کرے گی۔"

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں