ایران نے عالمی معیشت کے حساس مقام پر ہاتھ رکھ دیا
ٹرمپ کے بغیر معاہد ہ جنگ ختم کرنے پر ایرا ن پہلے سے خطرناک سمجھاجائیگا تیل گیس پیدا کرنے والے عرب ممالک تنازع کے اثرات سے نمٹتے رہیں گے امریکی صدرجنگ روک سکتے ،اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران بھی رک جائے گا امریکا اور اسرائیل کے فیصلہ ساز ایران کی مزاحمتی صلاحیتوں کو نہ سمجھ سکے :ماہرین
دبئی (رائٹرز)اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کو کسی معاہدے کے بغیر ختم کرتے ہیں تو وہ اس خطرے سے دوچار ہوں گے کہ تہران مشرقِ وسطیٰ کی توانائی کی فراہمی پر مضبوط گرفت حاصل کر لے گا جبکہ خلیجی عرب تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک ایک ایسے تنازع کے اثرات سے نمٹتے رہیں گے جسے انہوں نے نہ شروع کیا اور نہ ہی اس کی سمت متعین کی۔ایران کی مذہبی قیادت کو کمزور کرنے کی بجائے یہ صورتِ حال انہیں مزید مضبوط بنا سکتی ہے کیونکہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ہفتوں پر محیط حملوں سے محفوظ رہنے کے بعد زیادہ پراعتماد ہو جائیں گے ، خلیجی عرب ریاستوں پر حملے کریں گے اور آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر کے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیں گے ۔جنگ کا اختتام اگر اس کے بعد کی صورتحال سے متعلق واضح ضمانتوں کے بغیر ہوتا ہے ، تو یہ خلیجی ممالک کیلئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوگا اور خطے کو ایک ایسی جنگ کے نتائج برداشت کرنا پڑیں گے جو ایران کے حق میں ختم ہو سکتی ہے ۔دبئی کے بیحث ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر محمد بہارون نے کہاکہ مسئلہ یہ ہے کہ جنگ کو بغیر کسی حقیقی نتیجے کے ختم کر دیا جائے ۔
انہوں نے کہاٹرمپ جنگ کو روک سکتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران بھی رک جائے گا۔ جب تک امریکی افواج خلیج میں اپنے اڈوں پر موجود رہیں گی، ایران خطے میں دھمکیاں دیتا رہے گا۔یہ عدم توازن خلیجی ممالک کی تشویش کا بنیادی سبب ہے کہ ایران جنگ سے بغیر شکست کے نکل سکتا ہے اور اس کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے ،ایسی صورت میں وہ بحری راستوں، توانائی کی ترسیل اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالنے کی پوزیشن میں ہوگا جبکہ خلیجی ممالک کو ایک نامکمل تنازع کے معاشی اور تزویراتی اخراجات اٹھانے پڑیں گے ۔محمد بہارون نے کہا کہ خطے میں جہاز رانی کی آزادی میں کمی خلیجی ممالک کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہوگی، ایران علاقائی پانیوں کا کارڈ کھیلنا شروع کر سکتا ہے اور آبنائے ہرمز میں قواعد و ضوابط خود طے کر سکتا ہے ، جو عالمی توانائی کی فراہمی کیلئے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے ۔انہوں نے کہایہ صرف ہرمز تک محدود نہیں ہے ۔
، ایران نے عالمی معیشت کے ایک حساس مقام پر ہاتھ رکھ دیا ہے ۔ توانائی کی ترسیل میں خلل ڈالنے کی ایران کی صلاحیت یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ جو بھی مستقبل میں ایران پر حملے کا سوچے ، وہ دوبارہ غور کرے ۔مشرقِ وسطیٰ کے ماہر فواز جرجس نے کہاکہ ایک ہی اقدام میں ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک جغرافیائی سیاسی تنازع کو مذہبی اور تہذیبی تنازع میں بدل دیا ہے ۔ خامنہ ای کو ایک متنازع حکمران سے بڑھا کر ایک شہید بنا دیا ہے ۔علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق علی خامنہ ای کی ہلاکت نے ایران میں مذہبی قیادت کے سخت گیر رجحانات کو مزید جواز فراہم کیا ہے اور مذہبی اسٹیبلشمنٹ اور ایلیٹ پاسداران انقلاب کو ایک ایسے بیانیے میں جوڑ دیا ہے جو وجودی مزاحمت پر مبنی ہے ،جہاں ہتھیار ڈالنا ناقابلِ تصور اور ثابت قدمی مقدس سمجھی جاتی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ یہ مفروضہ کہ اعلیٰ قیادت کو ہٹانے سے نظام ٹوٹ جائے گا، ایران کے پیچیدہ ادارہ جاتی ڈھانچے ، متوازی طاقت کے نظام اور اس کی طویل مزاحمتی تاریخ کو نظر انداز کرتا ہے ،جس میں عراق کے ساتھ آٹھ سالہ جنگ اور امریکا کی دہائیوں پر محیط پابندیاں شامل ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا نتیجہ ہتھیار ڈالنا نہیں بلکہ شدت پسندی میں اضافہ ہے ،ایک زیادہ غصہ اور مزاحمت کرنے والا ایران اور ایک ایسا خطہ جو اس کے اثرات برداشت کرنے پر مجبور ہے ۔مشرقِ وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے ایران امور کے ماہر الیکس وتانکا نے کہاکہ خامنہ ای ایک آیت اللہ تھے ، یہ کوئی معمولی بات نہیں،خاص طور پر یہ کہ کوئی غیر ملکی طاقت ایک آیت اللہ کو قتل کرے لیکن یہ ٹرمپ ہیں، ایک ایسا شخص جس پر کوئی روک نہیں، اور شیعہ مذہبی اسٹیبلشمنٹ کیلئے انہوں نے ہر چھوٹے بڑے اصول اور ضابطے کو توڑ دیا ہے ۔ ماہرِ دہشت گردی میگنس رانسٹورپ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے فیصلہ ساز ایران کی نظریاتی طاقت سے بالکل بے خبر نہیں تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس کی مزاحمتی صلاحیت کو کم سمجھا۔
ان کے مطابق یہ خیال کیا گیا تھا کہ فضائی برتری جو میزائل لانچرز، کمانڈ سینٹرز اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنا کر حاصل کی گئی ، نقل و حرکت کی آزادی اور تزویراتی کنٹرول فراہم کرے گی لیکن اس کے برعکس ایرانی نظام ٹوٹنے کے بجائے مزید مضبوط ہو گیا، جزوی طور پر اس لئے کہ اسے ایسے متوازی ادارے سہارا دیتے ہیں جو دباؤ کے تحت دوبارہ فعال ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔علاقائی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کی غیر روایتی جوابی کارروائی کی صلاحیت کا بھی غلط اندازہ لگایا۔ان کے مطابق تہران کو فضائی جنگ جیتنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے اپنے مخالفین پر لاگت (نقصان)مسلط کرنا تھا ۔ دہائیوں کے دوران ایران نے براہِ راست طاقت کا مقابلہ کرنے کے بجائے دباؤ کے اہم نکات کی نشاندہی پر سرمایہ کاری کی ہے ، اور توانائی کے وسائل اور آبنائے ہرمز کو اپنی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنا لیا ہے ۔توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر اور آبنائے ہرمز کو خطرے میں ڈال کر ایران نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے ، دنیا بھر میں مہنگائی کو ہوا دی ہے اور دباؤ کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف منتقل کر دیا ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق مقصد میدانِ جنگ میں فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ معاشی تھکن مسلط کرنا تھا۔ ان کے مطابق اگر جنگ معاشی طور پر ناقابلِ برداشت ہو جائے تو صرف بقا ہی فتح بن جاتی ہے ۔
جنگ کا قبل از وقت خاتمہ اگر سکیورٹی ضمانتوں کے بغیر ہوتا ہے ، تو خلیجی ممالک غیر محفوظ رہ جائیں گے اور مستقبل میں ایران کی جوابی کارروائیاں ممکنہ طور پر صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گی۔تہران اب بھی یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ اپنے دیرینہ عالمی نیٹ ورکس کو متحرک کرے ، اور دہائیوں میں بنائے گئے روابط کے ذریعے اسرائیل، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے مفادات کو میدانِ جنگ سے دور بھی نشانہ بنا سکے ۔رانسٹورپ نے کہاکہ انہوں نے ابھی تک آغاز نہیں کیا لیکن ان کے پاس امریکا اور اسرائیل کو سزا دینے کی وسیع صلاحیت موجود ہے ۔ انہوں نے ایران کو ایک ایسے خطرے سے تشبیہ دی جو ہائڈرا کی طرح ہے ، جس کے پنجے مشرقِ وسطیٰ سے بہت دور تک پھیل سکتے ہیں،یہ خطرہ کسی بھی امریکی انخلا پر منڈلاتا رہے گا۔ اگر امریکا پیچھے ہٹتا ہے اور اسرائیلی کارروائیاں بڑی حد تک امریکی حمایت پر منحصر ہیں تو تہران اس نتیجے کو شکست کے طور پر نہیں دیکھے گا۔علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق مذہبی نظام برقرار رہے گا، طاقت کا توازن نمایاں طور پر تبدیل نہیں ہوگا اور ایران کو خطے میں پہلے سے زیادہ خطرناک سمجھا جائے گا۔