ایران میں فتح کا شور مگر چاروں طرف معاشی تباہی

ایران میں فتح کا شور مگر چاروں طرف معاشی تباہی

بمباری سے ہزاروں افراد بے روزگار ،اشیا کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئیں فیکٹریاں، بجلی گھر، ریلوے ، ہوائی اڈے ، تباہ ،مرمت میں کئی سال لگیں گے خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات متاثر، بین الاقوامی ساکھ شدید متاثر ہو گئی ایران توانائی کنٹرول پر پُراعتماد، داخلی مشکلات امریکا اور اسرائیل سے بڑا خطرہ اگر پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو ملک کو تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا:ایرانی عہدیدار

دبئی (رائٹرز) ایرانی حکام امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کو ایک سٹراٹیجک فتح قرار دے رہے ہیں، لیکن وہ شدید نقصان، تنہائی اور تباہ حال معیشت کے ساتھ اس صورتحال سے باہر نکل رہے ہیں۔ فوری بحالی کی کوئی خاص امید نظر نہیں آتی اور عوام غربت اور غصے کا شکار ہیں۔امریکی اور اسرائیلی حملوں کے کئی ہفتوں بعد، ہزاروں ایرانی اپنے روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ فیکٹریاں، بجلی گھر، ریلوے ، ہوائی اڈے اور پل تباہ ہو چکے ہیں۔ مزید یہ کہ خلیجی ممالک کے ساتھ اہم تجارتی تعلقات بھی منقطع ہو گئے ہیں ۔ ممکن ہے کہ یہ صورتحال دہائیوں تک برقرار رہے ۔اگرچہ ایران خطے میں اہم توانائی وسائل پر اپنا کنٹرول مضبوط کر کے زیادہ پُراعتماد دکھائی دیتا ہے ، لیکن اسے اندرونی طور پر بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا ہے ، جو بالآخر اسلامی جمہوریہ کے لیے امریکی یا اسرائیلی بمباری سے بھی بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ایرانی سیاسی حلقوں کے اندرونی افراد، کاروباری شخصیات اور تجزیہ کاروں سے بات چیت میں رائٹرز نے ایک ایسے ملک کی تصویر پیش کی جو معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ، جہاں قیادت ایک غریب اور غیر یقینی مستقبل سے خوفزدہ ہے ۔

ایک اصلاح پسند سابق عہدیدار کے مطابق، یہ خدشہ تباہ حال معیشت کو نئے احتجاجی سلسلوں کی جانب لے جا سکتا ہے ، اس نے ہر حکومتی فیصلے پر سایہ ڈال رکھا تھا، جبکہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ایک سیاسی ذریعے نے کہا کہ حکام معیشت کو ملک کی "ایڑی کی کمزوری" (سب سے بڑی کمزوری) سمجھتے ہیں۔اس ذریعے کے مطابق، کسی بھی جامع امن معاہدے کے لیے ضروری ہوگا کہ بین الاقوامی پابندیاں ختم کی جائیں اور منجمد فنڈز جاری کیے جائیں، ورنہ حکام کو صرف تنخواہیں ادا کرنے میں ہی شدید مشکلات کا سامنا ہوگا، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی تو دور کی بات ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال سے بالآخر قیادت کی 9 کروڑ آبادی والے ملک پر حکمرانی کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھ سکتا ہے ۔سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر علی انصاری نے کہا:"ہم ایران کے اندر ہونے والے نقصان اور اس کے اثرات کی مکمل حد کا اندازہ نہیں لگا سکتے ، لیکن ہر پیمانے پر یہ ایران کے لیے ایک بڑی ناکامی ہے - نہ پیسہ ہے اور نہ ہی انفراسٹرکچر باقی رہا ہے ۔

"ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ نقصان کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ معیشت کو چلانے والی بڑی صنعتی تنصیبات کی مرمت میں مہینوں ، حتیٰ کہ سال لگ سکتے ہیں، اور اگر پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو ملک کو "تباہی" کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ فیکٹریوں اور دیگر صنعتی مقامات کو پہنچنے والے نقصان نے ایک سلسلہ وار ردِعمل پیدا کر دیا ہے ، جس کے باعث ان بڑی تنصیبات پر انحصار کرنے والی درجنوں دیگر کمپنیوں کو بھی اپنا کام بند کرنا پڑا، اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔حملوں میں ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ کی پیداواری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں تعمیر کرنے پر اربوں ڈالر خرچ ہوئے تھے ۔ دیگر حملے اس کی بڑی پیٹروکیمیکل صنعتوں پر بھی کیے گئے ۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، خوزستان اور اصفہان میں واقع بڑے اسٹیل کارخانوں میں بندش دیکھی گئی ہے ، جہاں ہر پلانٹ میں ہزاروں مزدور متاثر ہوئے ، جبکہ خلیجی ساحل پر واقع صنعتی علاقوں میں بھی بجلی گھروں کی بندش کے باعث فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں۔حتیٰ کہ اگر ایرانی صنعت کو دوبارہ بحال بھی کر لیا جائے ، تب بھی جنگ کے دوران تہران کی جانب سے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے باعث اہم تعلقات متاثر ہو چکے ہیں۔خاص طور پر متحدہ عرب امارات ایران کے بیرونی دنیا کے ساتھ معاشی تعلقات میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔ایک اماراتی عہدیدار نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ بحال ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ پڑوسی رہیں گے

، لیکن ایران کے حملوں نے "اعتماد کا ایک بہت بڑا خلا پیدا کر دیا ہے جو میرے خیال میں آنے والی دہائیوں تک برقرار رہے گا۔"دبئی میں مقیم ایک ایرانی تاجر، جو خلیج کا سب سے بڑا بین الاقوامی معاشی مرکز ہے ، نے بتایا کہ وہ اپنا درآمد و برآمد کا کاروبار عمان منتقل کر رہا ہے ۔گلیوں میں فی الحال معاشی دباؤ اتنا شدید محسوس نہیں ہو رہا۔ تہران اور دیگر شہروں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اشیا کی کوئی کمی نہیں، جبکہ بازار، دکانیں، بیشتر کاروبار، بینک اور سرکاری دفاتر معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے قیمتوں میں اضافے کا ذکر کیا ۔ بعض صورتوں میں جنگ شروع ہونے کے بعد تقریباً 40 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے اور لوگوں میں ضروری اشیا کے علاوہ کچھ بھی خریدنے سے گریز پایا جاتا ہے ۔ دارالحکومت میں ایک آرٹ گیلری کی مالک خاتون نے کہا کہ ان کا کاروبار "عملاً ختم ہو چکا ہے ۔"ایک اور سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ محدود وسائل کے ساتھ معیشت کو چلانے کے لیے اعلیٰ سطح پر کئی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں اور جنگ بندی یا طویل مدتی سیزفائر کے امکانات حکومت کو اخراجات کے لیے کچھ زیادہ گنجائش فراہم کر سکتے ہیں۔جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی حکومت پہلے ہی ان افراد کو مالی معاونت فراہم کر چکی ہے جو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ، اس کے ساتھ ساتھ اہم انفراسٹرکچر کی ہنگامی مرمت پر بھی اخراجات کیے گئے ہیں۔تاہم اس ذریعے نے مزید کہا کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوگی، عوام کا حکومت کے ساتھ صبر کم ہونا شروع ہو جائے گا، جیسا کہ اس وقت تھا ، جب بمباری جاری تھی۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں