آبنائےہرمز:بارودی سرنگوں کا خطرہ،ایران نے متبادل بحری راستے کا نقشہ دیدیا
آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمان کے قریب سے گزرنے والے جہاز شمالی راستہ اختیار کریں :پاسداران انقلاب جنگ بندی کے بعد 9 جہاز گزرے :بر طانوی میڈیا،کچھ پابندیاں عائد، تعاون کرنیوالوں کو محفوظ راستہ ملے گاـ:ایران
تہران(اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ)ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے متبادل سمندری راستے کا اعلان کیا ہے ، کیونکہ سمندر میں دھماکا خیز مواد کے خطرے کا اندیشہ ہے ۔بارودی سرنگوں سے محفوظ رہنے کیلئے ایران نے متبادل بحری راستے کا نقشہ جاری کر دیا ،پاسداران انقلاب کے مطابق دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے تحت گزرگاہ کو عارضی طور پر دوبارہ کھولا گیا ہے ۔بیان میں جہاز مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ممکنہ حادثات سے بچنے کیلئے متبادل راستے اختیار کریں۔پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ہدایت کی ہے کہ جہاز اس علاقے سے باحفاظت گزرنے کے لیے ان کے ساتھ رابطہ کریں۔بیان کے مطابق وہ آئل ٹینکرز جو پہلے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمان کے قریب سے گزرتے تھے انہیں اب شمالی راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جو ایرانی ساحل کے قریب ہے ۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہاہے کہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا،تاہم وار زون کے باعث کچھ پابندیاں ہیں۔انہوں نے برطانوی میڈیا کو انٹرویو میں کہاکہ جو بھی ایرانی حکام سے تعاون کرے گا اس کو محفوظ راستہ ملے گا،یہ پابندیاں جہازوں کے تحفظ کے لئے لگائی گئی ہیں۔ دوسری جانب بی بی سی ویریفائی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے بحری جہازوں کی محدود نقل و حرکت کی نگرانی کر رہا ہے ۔میرین ٹریفک پر جہازوں سے باخبر رہنے والے ڈیٹا کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ منگل کی رات جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے کم از کم نو بحری جہاز جن میں دو آئل اور کیمیکل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔ملٹی نیشنل جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سنٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ سے پہلے ہر روز اوسطاً 138 بحری جہاز یہاں سے گزرتے تھے ۔ لیکن تنازع کی وجہ سے یہاں ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے اور لگ بھگ 800 بحری جہاز خطے میں پھنسے ہوئے ہیں۔