ایران جنگ بندی کے باوجود عالمی معیشت متاثر رہیگی:ورلڈ بینک

 ایران جنگ بندی کے باوجود عالمی معیشت متاثر رہیگی:ورلڈ بینک

ترقی کی شرح میں کمی ، مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ،غریب متاثر ہونگے :اجے بنگا بھاری انرجی سبسڈی سے گریز کریں جو بوجھ بن جائے :حکومتوں کو مشورہ توانائی وسائل نہ رکھنے والے ممالک سے تعاون کیلئے تیا ر :صدرورلڈ بینک

واشنگٹن(آئی این پی )ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا ہے کہ ایران جنگ بندی کے باوجود عالمی معیشت متاثر رہیگی،ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ عالمی معیشت پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرے گی، چاہے جنگ بندی برقرار ہی کیوں نہ رہے ۔ برطانوی میڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں اجے بنگا نے واضح کیا کہ اگر یہ جنگ بندی ناکام ہوتی ہے اور تنازع مزید بڑھتا ہے تو معاشی نقصانات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث عالمی ترقی کی شرح میں نمایاں کمی آسکتی ہے ، جبکہ مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جو عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بنا دے گا۔

اگر جنگ جلد ختم ہو جاتی ہے تب بھی عالمی ترقی کی شرح میں اعشاریہ تین سے اعشاریہ چار فیصد تک کمی آئے گی، لیکن جنگ طویل ہونے کی صورت میں یہ کمی ایک فیصد تک جا سکتی ہے ۔ورلڈ بینک کے صدر نے پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات چیت دیرپا امن اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کا سبب بنے گی؟۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اور دوبارہ لڑائی شروع ہوتی ہے تو توانائی کے ڈھانچے پر اس کے اثرات بہت طویل اور تباہ کن ہوں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ بینک ان ممالک کی مدد کے لیے تیار ہے جن کے پاس توانائی کے اپنے وسائل نہیں ہیں، تاہم انہوں نے حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسی بھاری انرجی سبسڈیز سے گریز کریں جو ان کے مستقبل کے لیے بوجھ بن جائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں