ہائی بلڈ پریشر کا تعلق سانس لینے کے دوران دماغی سرگرمی سے
لاہور(نیٹ نیوز) نئی سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہائی بلڈ پریشر (بلند فشارِ خون) کا تعلق دماغ کے ایک مخصوص حصے کی سرگرمی سے ہو سکتا ہے جو سانس لینے کے عمل میں کردار ادا کرتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق لیٹرل پیرافیشل (pFL) نامی دماغی حصہ سانس لینے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔یہ تحقیق یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو اور یونیورسٹی آف آکلینڈ کے سائنسدانوں نے انجام دی ہے ۔ تجربات کے دوران چوہوں پر کئے مشاہدات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس حصے کو متحرک کرنے سے ناصرف سانس لینے کا عمل متاثر ہوا بلکہ خون کی نالیاں سکڑ گئیں، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھ گیاجبکہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار چوہوں میں پی ایف ایل حصے کو غیر فعال کرنے سے بلڈ پریشر معمول پر آ گیا۔