ایران کی نئی تجاویز،ٹرمپ غیر مطمئن:2ہی آپشن ہیں ایران کو تباہ کردیں یا ڈیل کرلیں،پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی بہت عزت کرتا ہوں:امریکی صدر

ایران کی نئی تجاویز،ٹرمپ غیر مطمئن:2ہی آپشن ہیں ایران کو تباہ کردیں یا ڈیل کرلیں،پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی بہت عزت کرتا ہوں:امریکی صدر

ایرانی قیادت بہت بکھری ہوئی،وہاں دو سے تین بلکہ چار گروہ ، شاید کبھی مذاکراتی حل تک نہ پہنچ سکیں،ہمارے پاس اسلحے کا پہلے سے دگنا ذخیرہ:ٹرمپ ،اسلحہ ذخائر کی بحالی میں کئی برس لگ سکتے :پیٹ ہیگسیتھ مزید 6افراد، 21کمپنیوں، 1بحری جہاز پر پابندی،پنشن فنڈز اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غور، ہرمز میں ایران کو فیس دینے والی شپنگ کمپنیوں کو تنبیہ،سینیٹ میں فوجی کارروائیاں ختم کرنیکی قرارداد چھٹی بار مسترد

تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی جنگ بندی مذاکرات سے متعلق نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو مل گئیں مگر صدر ٹرمپ نے ان پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کردیا اور کہا 2ہی آپشن ہیں ایران کو تباہ کر دیں یا ڈیل کر لیں ، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی بہت عزت کرتا ہوں، امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے آبنائے ہرمز عبور کرنے کیلئے ایران کو فیس دینے والی شپنگ کمپنی پر پابندی لگائیں گے ۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہم بات چیت کیلئے سب کچھ کر رہے ہیں، ٹیلی فون پر بھی بات کر رہے ہیں، ایران نے کچھ قدم آگے بڑھائے ہیں، لیکن میں یہ کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں،مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ معاہدے تک پہنچ پائیں گے ۔انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کی تازہ دستاویز میں انہیں کون سی بات قابلِ قبول نہیں لگی، جنوبی لان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران کی قیادت میں شدید اختلافات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا:قیادت بہت بکھری ہوئی ہے ۔ وہاں دو سے تین گروہ ہیں، شاید چار، اور نظام انتہائی غیر منظم ہے ۔ اور اس سب کے باوجود وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ خود ہی الجھے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت اندرونی طور پر شدید اختلافات کا شکار ہے ۔قبل ازیں ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ہم ایران میں جنگ جیت چکے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس جنگ کو مزید بڑے مارجن سے جیتنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا اگر ہم ابھی نکل جائیں تو اگر وہ کر پائے تو بھی انہیں تعمیر نو میں 20 سال لگیں گے ۔ تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کافی نہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ہمیں اس بات کی ضمانت چاہیے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا ہم اس وقت مکمل طور پر تیار اور مسلح ہیں، ہمارے پاس اسلحے کا اس سے دگنا ذخیرہ ہے جتنا اس جنگ کے آغاز سے پہلے تھا۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے معاملے میں ان کے پاس دو ہی راستے ہیں:یا تو بڑی فوجی کارروائی کی جائے یا پھر معاہدہ کیا جائے ۔ٹرمپ نے فلوریڈا میں تقریب سے خطاب میں کہا ہم دنیا میں کسی پاگل کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دینگے ،ایران کو ہر صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کر نے سے روکیں گے ۔اگر ایران کو نہ روکتے تو اسرائیل اور یورپ کے پرزے پرزے کئے جاچکے ہوتے ، یہ برے لوگ تھے انہیں نے 45ہزار مظاہرین کو ہلاک کیا، ایران کی پہلے او ر دوسرے درجے کی قیادت ماری جا چکی،ایران کی قیادت نہ رہنے پر افسوس ہے ۔انہوں نے کہا ایسا نہیں کرینگے کہ جنگ سے جلدی نکل آئیں اور مشکل دوبارہ سے کھڑی ہوجائے ۔امریکا کے وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایرانی حکومت کے بیرونِ ملک موجود پنشن فنڈز کے اکاؤنٹس منجمد کرنے پر غور کر رہا ہے ۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ناکہ بندی کے علاوہ امریکا ایران پر مزید سخت معاشی دباؤ برقرار رکھے گا۔

انہوں نے کہا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے ایران پر دباؤ بڑھانے کو کہا ہے ،اسی وجہ سے امریکا نے ایرانی تیل کے خریداروں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ان صنعتوں اور بینکوں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو ایرانی تیل کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مزید ایرانی افراد، کمپنیوں اور ایک بحری جہاز پابندی لگا دی ہے ۔محکمہ خزانہ کے مطابق 6افراد، 21 کمپنیوں اور ایک بحری جہاز پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین کی بعض کمپنیوں اور شخصیات پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں، تاہم تاحال اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شپنگ کمپنی نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کے عوض ایران کو فیس ادا کی تو اس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی جیسی تنظیموں کو عطیات دینے والے اداروں پر بھی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ادھر امریکی سینیٹ میں فوجی کارروائیاں ختم کرنے کیلئے پیش کی گئی قرارداد چھٹی بار مسترد کر دی گئی ہے ۔کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف کی قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد ہوگئی۔ قرارداد کا مقصد صدر کو ایران جنگ کے بعد امریکی افواج کو واپس بلانے کی ہدایت دینا تھا ۔امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس کے ارکان کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور حالیہ برسوں میں دیگر فوجی تنازعات کے نتیجے میں استعمال ہونے والے امریکا کے اسلحہ ذخائر کی بحالی میں چند مہینوں سے لے کر کئی برسوں تک لگ سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کو اس جنگ پر اندرونِ ملک بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے ، کیونکہ کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں ہوئی جبکہ مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور نومبر میں وسط مدتی انتخابات بھی قریب ہیں۔جمعرات کو امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اقتصادی ترقی توقع سے کم رہی جبکہ مہنگائی 3 اعشاریہ 5 فیصد تک پہنچ گئی۔واشنگٹن پوسٹ،اے بی سی نیوز،ایپسوس کی جانب سے جاری کی گئی ایک نئی رائے شماری کے مطابق 61 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال ایک غلطی تھا۔دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ معاشی جنگ لڑیں اور اپنے دشمنوں کو مایوس کریں، کیونکہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ اور برسوں کی پابندیوں کے اثرات معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔اپنے تحریری بیان میں انہوں نے کہا اسلامی جمہوریہ نے فوجی میدان میں دشمنوں کے خلاف اپنی ترقی اور برتری کو دنیا کے سامنے ثابت کیا ہے ، تاہم اب معاشی اور ثقافتی جہاد کے مرحلے میں بھی انہیں مایوس اور شکست دینا ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو ملکی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دینی چاہیے اور یہ بھی ہدایت کی کہ تباہ شدہ کاروبار کے مالکان جہاں تک ممکن ہو ملازمین کی برطرفی سے گریز کریں۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے کہا مذاکرات کو مسترد نہیں کیا لیکن ہم ڈکٹیشن قبول نہیں کرتے ، انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ایران نے مذاکرات سے فرار اختیار نہیں کی اور نہ ہی اس سے خوفزدہ ہیں،ہم کسی صورت جنگ کے خواہاں نہیں، نہ ہم جنگ چاہتے ہیں اور نہ اس کا تسلسل،انہوں نے کہا مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ دھمکیوں کے ذریعے جو حکم دیا جائے یا مسلط کیا جائے ، ہم اسے قبول کر لیں۔انہوں نے کہا کہ ‘دشمن جو اہداف جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا، وہ سفارت کاری کے ذریعے حاصل نہیں ہوں گے کیونکہ ہم سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان ہی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کئی ممالک مدد کیلئے تیار ہیں، تاہم مذاکرات میں باضابطہ ثالث کی حیثیت پاکستان کو حاصل ہے ۔انہوں نے کہا اگر مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تو اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ایرانی جہاز پر قبضے کوسمندری قزاقی سمجھتے ہیں، معاملہ پاکستانی ثالث کے ذریعے اٹھا رہے ہیں تاکہ زیر حراست ایرانی شہریوں کی رہائی ممکن بنائی جاسکے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اور روس کے درمیان سٹریٹجک پارٹنر شپ معاہدے کے تحت سیاسی، سکیورٹی اور معاشی شعبوں میں وسیع تعاون ہے ۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی محکمہ دفاع پر جنگ کی اصل قیمت کے بارے میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے اعلان کردہ اعداد و شمار حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے ۔انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا پینٹاگون جھوٹ بول رہا ہے ، نیتن یاہو کے جوئے کی وجہ سے امریکا کو اب تک تقریباً 100 ارب ڈالر کا نقصان ہواہے ۔دوسری جانب ایران میں جنگ کے معاشی اثرات جو پہلے ہی سخت بین الاقوامی پابندیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے ، مزید شدید ہو رہے ہیں۔امریکی فوج کے مطابق اس کے محاصرے نے ایران کو 6 ارب ڈالر کے تیل کی برآمد سے روک دیا ہے ، جبکہ ایران میں مہنگائی، جو جنگ سے پہلے 45 فیصد سے زائد تھی، حالیہ ہفتوں میں 53 اعشاریہ 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔فرانس اور برطانیہ نے درجنوں ممالک پر مشتمل ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کی ہے ، جو امن قائم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد دے گا، جبکہ واشنگٹن اپنی الگ بین الاقوامی مہم شروع کر رہا ہے ، جسے میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ کا نام دیا گیا ہے ۔اس پر فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بیروٹ نے کہا کہ دونوں اقدامات ایک دوسرے کے متوازی اور تکمیلی ہوں گے ، نہ کہ مقابل، اپنے خلیجی دورے کے دوران انہوں نے کہا امریکی مشن ہماری قائم کردہ کوشش جیسا نہیں، بلکہ ایک طرح سے اس کی تکمیل ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں