افغان طالبان حکومت کا خیبرپختونخوا کے سرحدی اضلاع میں شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول:پاکستان

افغان طالبان حکومت کا خیبرپختونخوا کے سرحدی اضلاع میں شہریوں کو نشانہ  بنانا  ناقابل  قبول:پاکستان

دہشتگردوں کیخلاف پاکستان کی جنگ سچائی پر مبنی ہے ،افغان طالبان رجیم کاشہریوں کو نشانہ بنانا ان کی وحشیانہ فطرت کا عکاس ہے ، معرکہ حق میں پاکستان کی فتح یاد رکھی جائیگی،عطاتارڑ شمالی وزیرستان میں قبائل اور فتنہ الخوارج میں جھڑپ ، 5دہشتگرد ہلاک ،3شہری جاں بحق، 8زخمی ،فتنہ الخوارج کا کواڈ کاپٹر کے ذریعے کرکٹ گرائونڈ پر حملہ، تین شہری زخمی ہو گئے

اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں معصوم شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے غیر انسانی اور پرتشدد سلسلے ناقابل قبول اور انسانی جان کے  حوالے سے ان کی وحشیانہ فطرت کے عکاس ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہادر سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شکست کھانے اور ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہ رکھنے کے بعد شہری علاقوں کو نشانہ بنانا نہ صرف قابل نفرت ہے بلکہ یہ افغان طالبان رجیم کے رہنماؤں کے پست اخلاقی کردار کو بھی آشکار کرتا ہے ، عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر باجوڑ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ صرف ضلع باجوڑ میں افغان طالبان اور ان کے بھارتی حمایت یافتہ پراکسی فتنہ الخوارج کی جانب سے شہری آبادی کو بلا اشتعال اور مجرمانہ طور پر نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 6 معصوم بچوں اور خواتین سمیت 9 شہری شہید ہوئے جبکہ 7 خواتین اور ایک کم عمر بچے سمیت 12 افراد زخمی ہوئے ۔انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ پھر فتنہ الخوارج کی جانب سے کھلے عام اور شرم ناک انداز میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے کرکٹ کھیلتے ہوئے شہریوں کو نشانہ بنایا گیاجس سے تین شہری زخمی ہوئے ، اس کے برعکس افغان طالبان رجیم کے نام نہاد نمائندے پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وضاحت اور شواہد سے یہ رپورٹ کیا جا چکا ہے کہ پاکستان صرف دہشت گردوں کے ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے اور معلومات فوری اور شفاف انداز میں عوام کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں،کسی بھی قسم کے شہری نقصان سے بچنے کے لیے بھرپور احتیاط برتی جاتی ہے ،عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خارجی دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف پاکستان کی جنگ ہمیشہ سچائی، اصولوں، عزت، عزم اور ایمان پر مبنی رہی ہے جبکہ خارجیوں اور ان کے بھارتی حمایت یافتہ سہولت کاروں کی ناپاک جنگ اور انجام شرم، فریب، لالچ اور برائی پر مبنی ہے ۔دریں اثنا معرکہ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر ثقافتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کی فتح تاقیامت یاد رکھی جائیگی ، آپریشن بنیان مرصوص کی فتح کا جشن منانے کے جذبے کو دیکھ کر یقین ہو گیا کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے ،مزید کہا کہ دشمن کو ہماری آزادی کھٹکتی ہے ،دشمن پاکستان کے خلاف سازش اور اسے نقصان پہنچانے کی طاق میں رہتا ہے ، وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور بھارت دہشت گردی پھیلانے والے ممالک میں شامل ہے ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جنگی حکمت عملی سے ملک کا دفاع یقینی بنایا گیا ،پاکستان کی فورسز نے بھارت کے آٹھ جہاز گرائے ،جب فتح میزائل بارڈر سے فائر کیا گیا تو چند گھنٹے کے اندر بھارت نے گھٹنے ٹیک د ئیے ۔

اُدھر شمالی وزیر ستان کے علاقے درپہ خیل میں قبائل اور فتنہ الخوارج کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں 5 دہشت گرد مارے گئے ،متعدد زخمی ہو گئے جبکہ اس جھڑپ کے دوران 3شہری جاں بحق اور8زخمی ہو گئے ،باجوڑ میں خوارج کے کرکٹ گراؤنڈ پر کواڈ کاپٹر سے حملے میں3 شہری زخمی ہو گئے ،تفصیلات کے مطابق ریجنل پولیس آفیسر بنوں سجاد خان کے مطابق درپہ خیل کے علاقے شاہزادہ کوٹ میں مقامی قبائل اور فتنہ الخوارج کے درمیان فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 3 شہری جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے ،آر پی او نے بتایاکہ تمام زخمیوں کو پولیس نے فوری طور پر سول ہسپتال میرانشاہ منتقل کر دیا ، اطلاع ملتے ہی پولیس قبائل کی مدد کو پہنچ گئی اور پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے ۔دریں اثنا باجوڑ میں خوارج نے کرکٹ گراؤنڈ پر کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا جس سے 3شہری زخمی ہو گئے ،حملہ اس وقت کیا گیا جب نوجوان گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل رہے تھے ، واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے ،سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشتگردوں کی تلاش شروع کر دی ہے ، آئی ایس پی آر کے مطابق فتنہ الخوارج کے بزدلانہ حملے میں زخمی افراد کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ، یاد رہے کہ مارچ اور اپریل میں افغانستان کے باجوڑ کے سرحدی علاقوں بالخصوص ماموند اور سلارزئی میں فائرنگ سے 9افراد شہید ہوئے جن میں 3خواتین اور 6معصوم بچے شامل تھے ،قبائلی عمائدین اور مقامی عوام نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں فتنہ الخوارج کا خاتمہ یقینی بنایا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں