جنگ بندی کا تسلسل ضروری : برطانوی وزیراعظم : مفاہمت میں سہولت کاری کیلئے تیار : روسی صدر
ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے تو امریکا کے ساتھ معاہدہ دسترس سے باہر نہیں:ایرانی صدر مذاکرات کی میز پر آئیں:آسٹریلیا، کشیدگی سے گریز کریں :عمان،پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہیں:یورپی یونین
لندن ،ماسکو،برسلز(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمرنے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کا تسلسل ضروری قرار دیدیا ،جبکہ روسی صدر نے مفاہمت کیلئے سہولت کاری کا عزم ظاہر کیا ہے ۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اور عمان کے سلطان کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں ایران، امریکا کشیدگی سے متعلق بات کی گئی۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اور عمان کے سلطان نے گفتگو کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی سے گریز کا مطالبہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے ۔سٹارمر اور عمانی سلطان نے کہا کہ دونوں فریقین کو مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے ۔ جنگ بندی کا تسلسل برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔برطانوی وزیراعظم کے مطابق عالمی شراکت دار آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت کی بحالی کیلئے کام کر رہے ہیں۔
برطانیہ کے وزیر صحت ویس سٹریٹنگ نے کہا اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے رک جانے پر \"مایوسی\" ہوئی ہے ۔اگرچہ یہ مذاکرات کامیابی پر ختم نہیں ہوئے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوششیں جاری رکھنے میں کوئی فائدہ نہیں۔عمان کے وزیرِ خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے اور جنگ بندی میں توسیع کی اپیل کی ہے ۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ماسکو سے روسی خبر ایجنسی کے مطابق دونوں صدور نے اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔ روسی میڈیا کے مطابق صدر پیوٹن نے کہا کہ روس مشرق وسطٰی تنازع میں مفاہمت کی سہولت کاری جاری رکھنے کیلئے تیار ہے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے تو امریکا کے ساتھ معاہدہ ‘دسترس سے باہر نہیں’ ہے۔
آسٹریلیا نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے ایک بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات کا بغیر کسی معاہدے کے ختم ہونا مایوس کن ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور فوری طور پر بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے ۔پینی وونگ نے مزید کہا کہ آسٹریلیا اس تنازع کا جلد اور پُرامن حل چاہتا ہے تاکہ خطے میں استحکام بحال ہو سکے ۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے انسانی اور معاشی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں جبکہ عالمی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ کے مطابق مشرقِ وسطٰی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے خطرہ بن سکتی ہے ، اس لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔یورپی یونین کے ایک ترجمان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے حل کیلئے ڈپلومیسی بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔امریکی اور ایرانی مذاکرات میں ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے ، جو پاکستان میں ہوئے ، یورپی یونین کے ترجمان برائے خارجہ امور انوار الانونی نے کہا کہ ہم پاکستان کی مصالحتی کوششوں کو سراہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ برسلز اپنے شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی میں حل تک پہنچنے کی مزید کوششوں میں حصہ ڈالے گا۔