محمد باقر قالیباف ایران کے نئے طاقتور مذاکرات کار
جنگی قیادت سے مذاکراتی عمل کی سربراہی،امریکی وفد پر گہرا اثر پاسداران کمانڈر، پولیس چیف ،میئر رہنے کے بعد سپیکر بنے
پیرس (اے ایف پی)ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف ایران کی قیادت میں ایک اہم مذاکرات کار اور نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔تقریباً تین دہائیوں سے ایرانی اسٹیبلشمنٹ کا ایک مضبوط ستون اور غیر مذہبی شخصیات میں نمایاں مقام رکھنے والے 64 سالہ قالیباف نے جنگی کوششوں کی قیادت کی اور اب وہ حساس نوعیت کے مذاکراتی عمل کی بھی سربراہی کر رہے ہیں۔قالیباف پانچ ہفتوں سے زائد جاری امریکا-اسرائیل حملوں میں محفوظ رہے ، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی اور دیگر کئی اہم شخصیات جاں بحق ہو گئیں۔وہ گزشتہ ویک اینڈ پر پہلی بار منظر عام پر آئے ، جب انہوں نے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایرانی وفد کی قیادت کی، جہاں انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔ یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کا اہم ترین رابطہ تھا۔ایرانی سفارت خانوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک تصویر میں قالیباف کو مذاکراتی ٹیم کے مرکز میں دکھایا گیا، جہاں وہ پرجوش انداز میں گفتگو کرتے اور ہاتھ سے اشارے کرتے نظر آئے ، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی چائے کے کپ سنبھالنے میں مصروف تھے ۔
تقریباً چار دہائیوں تک ایران کی قیادت پر حاوی رہنے والے خامنہ ای کے بغیر ایرانی قیادت کا نظام کس طرح کام کر رہا ہے ، یہ تاحال واضح نہیں ہے ۔ سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین نامزد کیا گیا تھا، تاہم وہ اب تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے ، جبکہ اطلاعات ہیں کہ وہ ایک فضائی حملے میں زخمی ہوئے تھے ۔ محمد باقر قالیباف ماضی میں ایرو اسپیس فورسز کے کمانڈر کے طور پر ایک اہم کردار ادا کر چکے ہیں ۔اسلام آباد کا دورہ جنگ سے پہلے کے بعد محمد باقر قالیباف کی پہلی عوامی پیشی تھا، اگرچہ وہ تقریباً روزانہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے نمایاں رہے ہیں۔ان کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (ٹوئٹر) پر امریکی اندازِ انگریزی میں لکھی گئی پوسٹس نے خاصی توجہ حاصل کی اور یہ سوالات بھی اٹھے کہ یہ تحریریں دراصل کون لکھ رہا ہے ، کیونکہ قالیباف کو روانی سے انگریزی بولنے والا نہیں سمجھا جاتا۔زمینی حملے کی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ، یکم اپریل کو قالیباف کے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا گیا:"اگر تم ہمارے گھر پر آئے ... تو تمہیں پورے خاندان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم تیار ہیں، مسلح ہیں اور مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ آ جاؤ۔"نیوز ویب سائٹ ایران وائر کے مطابق یہ پوسٹس ممکنہ طور پر امریکا میں مقیم ایک سابق مشیر نے لکھی تھیں، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔اگرچہ اسلام آباد مذاکرات ناکام رہے
، تاہم امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق قالیباف نے امریکی وفد پر گہرا اثر چھوڑا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن برسوں تک ایرانی اہم فیصلہ سازوں سے براہِ راست رابطہ نہیں کرتا رہا۔اخبار کے مطابق، قالیباف نے "امریکی ٹیم کو ایک مہذب اور پیشہ ور مذاکرات کار اور ممکنہ طور پر ایک نئے ایران کے رہنما کے طور پر متاثر کیا۔ محمد باقر قالیباف کا متنوع تجربہ، جو فوجی اور سول دونوں شعبوں پر مشتمل ہے ، انہیں پاسدارانِ انقلاب میں کمانڈر، تہران پولیس چیف، تہران کے میئر اور اب پارلیمنٹ کے سپیکر کے طور پر کام کرنے کا موقع دے چکا ہے ۔یہ واضح نہیں کہ آیا وہ پاسدارانِ انقلاب کی نئی سخت گیر قیادت، بشمول سربراہ احمد وحیدی اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کے طور پر علی لاریجانی کے جانشین محمد باقر ذوالقدر کا مکمل اعتماد حاصل کر سکے ہیں یا نہیں۔انہیں انتہائی پرعزم شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے ، اور وہ کئی بار ایران کے صدارتی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں، لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوئے ۔ خاص طور پر 2005 میں، جب اس وقت نسبتاً غیر معروف انتہائی قدامت پسند رہنما محمود احمدی نژاد صدر منتخب ہوئے ۔ایک تربیت یافتہ پائلٹ کے طور پر، قالیباف یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ وہ جمبو جیٹ طیارے اڑانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔