امریکی نوجوانوں کا سمارٹ فونز چھوڑ کر 1 ماہ کا ڈیجیٹل ڈیٹوکس

امریکی نوجوانوں کا سمارٹ فونز چھوڑ کر 1 ماہ کا ڈیجیٹل ڈیٹوکس

انسٹاگرام،ہیڈ فون چھوڑ کر پرندوں کی چہچہاہٹ حقیقی زندگی کا لطف اٹھایا:شرکا ڈیٹوکس کے بعدروزانہ کا سکرین وقت 6سے 4 گھنٹے تک کم ہو گیا:بوبی لومِس

واشنگٹن (اے ایف پی)مارچ میں امریکی دارالحکومت میں 20 اور 30 سال کی عمر کے ایک گروپ نے اپنے سمارٹ فونز کو سادہ فلپ فونز سے بدل کر ایک ماہ کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹوکس کا آغاز کیا۔ یہ اقدام نوجوان امریکیوں کی ایک بڑھتی ہوئی تحریک کا حصہ ہے جو سوشل میڈیا کے نقصان دہ اثرات سے آزادی چاہتے ہیں۔انہوں نے گوگل میپس کے بغیر سفر کیا ،بس سٹاپ پر انسٹاگرام سکرول ، کانوں میں ہیڈ فون نہ لگایا تاکہ پرندوں کی چہچہاہٹ سن سکیں۔ واشنگٹن میٹرو میں ڈیٹا اینالسٹ جے ویسٹ نے کہا کہ وہ اکثر اپنی جیب میں فون کے لیے ہاتھ ڈالتے ، مگر پتہ چلتا کہ وہاں کچھ نہیں ہے ۔ لیکن آخرکار، انہوں نے کہا، یہ تجربہ آزاد کرنے والا تھا۔شرکت کرنے والے بعض اوقات بور ہو جاتے تھے ، ۔ رئیچل شلٹس سائیکل سوار اجنبیوں سے راستہ پوچھتی تھیں، لِزی بینجمن اپنے والد کے بنائے ہوئے پرانے سی ڈیز سن کر  موسیقی کا لطف اٹھاتی تھیں۔بوبی لومِس نے کہا ڈیٹوکس کے بعد ان کا روزانہ کا سکرین وقت چھ سے چار گھنٹے تک کم ہو گیا، جو امریکی بالغوں کے اوسط کے قریب ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں