امریکی حکومت سزائے موت کے طریقے بڑھانے پرآمادہ

امریکی حکومت سزائے موت کے طریقے بڑھانے پرآمادہ

وفاقی سطح پر فائرنگ سکواڈ، بجلی کے جھٹکے اور گیس کا استعمال کیاجائیگا :محکمہ انصاف 5امریکی ریاستوں میں فائرنگ سکواڈ اور9میں بجلی کے جھٹکوں کی اجازت موجود

واشنگٹن (اے ایف پی)امریکی محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ وفاقی سطح پر سزائے موت کے مقدمات میں اس کے استعمال کو مزید وسیع کرنے اور سزائے موت  دینے کے طریقوں میں فائرنگ سکواڈ، بجلی کے جھٹکے (الیکٹروکوشن)اور گیس کے استعمال کو بھی شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو پہلے صرف مہلک انجکشن تک محدود تھے ۔قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا کہ پچھلی انتظامیہ نے امریکی عوام کے تحفظ کی ذمہ داری پوری نہیں کی کیونکہ اس نے دہشت گردوں، بچوں کے قاتلوں اور پولیس اہلکاروں کے قاتلوں سمیت خطرناک ترین مجرموں کے خلاف حتمی سزا نافذ کرنے سے انکار کیا،صدر ڈونلڈٹرمپ کی صدارت میں محکمہ انصاف دوبارہ قانون پر عمل کر رہا ہے اور متاثرین کے ساتھ کھڑا ہے ۔ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2020 میں وفاقی سزائے موت پر 17 سالہ وقفہ ختم کیا تھا اور اپنی مدت کے آخری چھ ماہ میں 13 افراد کو مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دی گئی تھی جو گزشتہ 120 سال میں کسی بھی امریکی صدر کے دور سے زیادہ تھی۔جنوری 2025 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے قبل سابق صدر جوبائیڈن نے سزائے موت کے مخالف ہونے کے باعث وفاقی ڈیتھ رو میں موجود 40 میں سے 37 قیدیوں کی سزائیں کم کر دی تھیں۔

ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت کے پہلے دن ہی سزائے موت کے دائرہ کار کو انتہائی گھناؤنے جرائم تک بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔عام طور پر امریکا میں سزائے موت ریاستی سطح پر دی جاتی ہے تاہم وفاقی حکومت محدود جرائم میں یہ سزا لاگو کر سکتی ہے ۔اس وقت پانچ امریکی ریاستیں فائرنگ سکواڈ کی اجازت دیتی ہیں مگر حالیہ برسوں میں صرف جنوبی کیرولینا نے اس طریقہ کار کو استعمال کیا ہے ۔9 ریاستیں بجلی کے جھٹکوں کے ذریعے سزائے موت کی اجازت دیتی ہیں، تاہم یہ طریقہ 2020 کے بعد استعمال نہیں ہوا۔دو ریاستوں میں حالیہ برسوں میں نائٹروجن ہائپوکسیا کے ذریعے سزائے موت دی گئی ہے ، جس میں قیدی کو ماسک کے ذریعے نائٹروجن گیس دی جاتی ہے جس سے وہ دم گھٹنے سے مر جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس طریقے کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا ہے ۔امریکا کی 23 ریاستوں میں سزائے موت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے ، جبکہ کیلیفورنیا، اوریگون اور پنسلوانیامیں اس پر عارضی پابندی موجود ہے ۔جن تین افراد کی سزائے موت صدر بائیڈن نے معاف نہیں کی، ان میں 2013 کے بوسٹن میراتھن بم دھماکے کا ایک مجرم، 2018 میں 11 یہودی عبادت گزاروں کو قتل کرنے والا حملہ آور اور 2015 میں 9سیاہ فام چرچ عبادت گزاروں کو قتل کرنے والا سفید فام نسل پرست شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں