سرکاری ادارے ایک ہزار ارب سنگل ٹرثرری اکاؤنٹس میں منتقل کریں:آئی ایم ایف
دو سو سے زائد اداروں نے خطیر رقم ذاتی کمرشل بینک اکاؤنٹس میں جمع کرا رکھی جس پر آئی ایم ایف نے عدم اطمینان کا اظہار کیا 242اکاؤنٹس سے 200ارب منتقل، مزید 70اداروں کے 290ارب سنگل ٹریژری اکائونٹس میں جلد جمع ، ذرائع وزارت خزانہ
اسلام آباد (مدثر علی رانا)باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئی ایم ایف نے سرکاری اداروں کے ایک ہزار ارب روپے سے زائد سنگل ٹریژری اکاؤنٹس کی بجائے اداروں کے ذاتی اکاؤنٹس میں موجود ہونے پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے ۔ فنڈ نے قرضوں پر انحصار کرنے کی بجائے سرکاری اداروں کے پاس موجود سرمایہ کو سنگل ٹریژری اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔حکومت نے آئی ایم ایف کو تحریری طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سرکاری اداروں کی مالی رقوم کو مکمل طور پر حکومتی کنٹرول میں لانے کے لیے ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (TSA) نظام کو مزید مؤثر بنائے گی۔وزارت خزانہ حکام نے انکشاف کیا تھا کہ تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی خطیر رقم مختلف سرکاری اداروں نے کمرشل بینکوں میں رکھ چھوڑی تھی، جو حکومتی مالیاتی نظام سے نہ صرف باہر تھی بلکہ سرکاری ادارے اس خطیر رقم پر بینکوں سے منافع بھی وصول کر رہے تھے ، اور وزارت خزانہ کی اس پر مؤثر نگرانی نہیں تھی۔ذرائع کے مطابق اب آئی ایم ایف اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس پرانی روایت کو ختم کرے تاکہ مالی شفافیت کو یقینی بنا کر سرکاری اداروں کی رقم سنگل ٹریژری اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے ۔
باوثوق ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق حکومت اب مزید 70 سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس کو سنگل ٹریژری اکاؤنٹس میں شامل کرنے جا رہی ہے جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں۔ اس سے قبل 242 اکاؤنٹس پہلے ہی سنگل ٹریژری اکاؤنٹ کا حصہ بنائے جا چکے ہیں جن میں تقریباً 200 ارب روپے شامل ہیں۔مجموعی طور پر دو سو سے زائد سرکاری اداروں نے خطیر رقم سنگل ٹریژری اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی بجائے اداروں کے ذاتی کمرشل بینک اکاؤنٹس میں ڈیپازٹ کرائی ہوئی ہے ۔ آئی ایم ایف کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ تمام سرکاری رقوم ایک ہی نظام کے تحت آئیں جس سے نہ صرف کیش مینجمنٹ بہتر ہوگی بلکہ غیر ضروری قرض لینے کی ضرورت بھی کم پڑے گی۔حکومت نے آئی ایم ایف کو یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کسی پیچیدہ سیکٹرائزیشن سٹڈی کے بجائے قانونی معیار کو اپناتے ہوئے ان اداروں کی نشاندہی کرے گی جو TSA کے دائرے میں آئیں گے ۔دوسری جانب پارلیمنٹ میں اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ پارلیمنٹ کا اعتراض ہے کہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی وجہ سے مالی نظم و ضبط متاثر ہو رہا ہے ۔
پی ایف ایم ایکٹ کے سیکشن 40C کے تحت یہ لازم ہے کہ تمام سرکاری آمدن فوری طور پر وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کروائی جائے تاہم عملی طور پر اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔حکومت نے بڑھتے ہوئے قرضوں اور مالیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے ۔ ذرائع کے مطابق 2026 سے 2028 کے لیے بنائی گئی اس حکمت عملی کے تحت قلیل مدتی قرضوں کو بتدریج طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ ادائیگیوں کا دباؤ کم ہو سکے ۔اس کے علاوہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود اندرونی قرض کو بھی مرحلہ وار کم کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ پبلک ڈیٹ مینجمنٹ کے ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے ۔سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے حکومت نے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں نہ صرف موجودہ اور ممکنہ سرمایہ کاروں کو حکومتی پالیسیوں اور قرضوں کی حکمت عملی سے آگاہ کیا جا رہا ہے بلکہ نئے مالیاتی آلات متعارف کرانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکیں۔حکومت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے حکومتی سیکیورٹیز کی فروخت کو فروغ دینے پر بھی کام کر رہی ہے ، جس سے عام سرمایہ کاروں کی رسائی آسان ہوگی۔حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق پایا ہے کہ ستمبر 2026 تک ایک جامع اسٹڈی مکمل کی جائے گی، جس میں حکومتی سکیورٹیز مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے گا اور درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک عملی منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق اگر سنگل ٹریژری اکاؤنٹ نظام کو مکمل طور پر نافذ کر دیا گیا تو اس سے نہ صرف مالی شفافیت میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ حکومتی وسائل کے مؤثر استعمال اور قرضوں پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ذرائع کے مطابق حکومت ریٹیل ڈیٹ پروگرام میں اصلاحات کے قریب ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے حکومتی سکیورٹیز کی فروخت کو مزید مؤثر بنانے پر کام جاری ہے ، اور اس اقدام سے عام شہریوں کی سرمایہ کاری میں شرکت بڑھنے کی توقع ہے ۔