اچھرہ میں قتل 3کمسن بچوں کی لاشیں ورثاء کے حوالے
مقتولین آبائی ضلع جھنگ میں سپرد خاک،ملزمہ کا 5روزہ جسمانی ریمانڈ منظور ردا کاشہریار سے تعلق ،بچوں کو دوسری شادی میں رکاوٹ سمجھتی تھی:پولیس
لاہور(کرائم رپورٹر،کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)اچھرہ میں قتل کئے جانیوالے 3کمسن بچوں کی لاشیں پوسٹمارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔پولیس حکام کے مطابق کمسن مقتولین 5 سالہ مومنہ بتول، 4 سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ امہ حبیبہ کی لاشوں کوان کے رشتہ دار ضلع جھنگ میں واقع آبائی گاؤں لے گئے جہاں نماز جنازہ کے بعد انہیں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ دوسری جانب پولیس نے 3بچوں کے قتل کے الزام میں گرفتار ماں کوگزشتہ روز سخت سکیورٹی میں ماڈل ٹاؤن کچہری میں پیش کردیا، جوڈیشل مجسٹریٹ سید ارشد حسین نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر کے ملزمہ ردا فاطمہ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔
تفتیشی افسر نے موقف اپنایا کہ ملزمہ کا ڈی این اے ، پولی گرافک اور میڈیکل ٹیسٹ کرانا ہے ، 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے تاہم عدالت نے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ ادھر پولیس حکام نے سی ڈی آر ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ملزمہ ردا فاطمہ کا جھنگ کے رہائشی شہریار نامی شخص سے قریبی تعلق تھا اور وہ موبائل ایپ کے ذریعے اس سے پیسے بھی منگواتی، اس کی اپنے شوہر رمضان سے طلاق لے کر شہریار سے دوسری شادی کی خواہش تھی تاہم بچوں کو دوسری شادی میں رکاوٹ سمجھتی تھی جس کے باعث یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا، شہریار کو گرفتار کرنے پولیس ٹیم جھنگ روانہ کر دی گئی ، ملزمہ سے تفتیش جاری ہے ،شوہر رمضان کو تفتیش کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
پولیس کے مطابق ردا فاطمہ نے واردات کے بعد کرائم سین تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی ،اس کی واردات کے بعد گھر سے باہر جانے کی کلوز سرکٹ فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے ۔علاوہ ازیں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کا کہنا ہے کہ ملزمہ ردا کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت پیش کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی ۔یاد رہے ایک روز قبل اچھرہ کے مقامی پلازہ میں واقع فلیٹ سے کمسن دو بہنوں اور ایک بھائی کی گلا کٹی لاشیں ملی تھیں،جنہیں تیزدھار آلے سے قتل کر دیا گیا تھا۔