پاکستان کی امن کوششیں :امریکا،ایران نے دوبارہ اسلام آباد کا رخ کر لیا
عراقچی کا فیلڈ مارشل، اسحاق ڈار نے استقبال کیا،وفد مسقط اور ماسکو بھی جائیگا، امریکا سے مذاکرات ایجنڈے کا حصہ نہیں:ایرانی میڈیا، ایران ایک منصوبہ پیش کریگا ،ہم اسے دیکھیں گے :ٹرمپ وینس اور روبیو بھی ضرورت پڑنے پر جانے کیلئے تیار:وائٹ ہاؤس،ایران دانشمندانہ معاہدہ کرے :پیٹ ہیگستھ،امریکا کی ایران سے متعلق نئی پابندیاں،40کمپنیاں،جہاز شامل،34کروڑ ڈالر کی کرپٹو منجمد
تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی امن کوششیں رنگ لے آئیں ، امریکا اور ایران نے دوبارہ اسلام آباد کا رخ کرلیا، ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی پاکستان پہنچ گئے جبکہ امریکا سے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر آج صبح روانہ ہوں گے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران ایک منصوبہ پیش کرے گا اور ہم اسے دیکھیں گے ،رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا امریکا اس وقت ایران میں ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے جو برسر اقتدار ہیں، ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں،امریکا کے مطالبات پورے کرنے کیلئے ایران ایک منصوبہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ،ایران ایک پیشکش کرے گا اور ہم اسے دیکھیں گے ۔
تاہم امریکی صدر کو تاحال یہ معلوم نہیں کہ یہ پیشکش کیا ہے ۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جب اگلے ہفتے برطانیہ کے بادشاہ چارلس امریکا کا دورہ کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ایران کے معاملے پر بات چیت کریں گے ۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر لچک کا مظاہرہ کیا،امریکی صدر نے اسی لیے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ ایرانیوں کا موقف براہِ راست سن سکیں،دونوں شخصیات مذاکرات کیلئے آج ہفتہ کی صبح روانہ ہوں گی۔انہوں نے کہا ایرانی وفد براہ راست بات چیت چاہتا ہے اور صدر ہمیشہ سفارت کاری کو ایک موقع دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔امریکاکو امید ہے کہ اس ملاقات سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی تاہم دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ ہونے والے نئے مذاکراتی دور میں شرکت نہیں کریں گے ،لیکن وہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ انتظار میں رہیں گے ، ضرورت پڑی تو سب لوگ پاکستان جانے کے لیے تیار ہوں گے ۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وفد پاکستان آمد پر ایران سے براہ راست مذاکرات کرے گا تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب تک ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد دورے کے ایجنڈے میں امریکا کے ساتھ مذاکرات شامل نہیں،عباس عراقچی کا اسلام آباد کا دورہ پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کے موقف پر بات چیت کیلئے ہے ۔دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں کیلئے عباس عراقچی ایک وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں ، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا ہے ۔پاکستان آمد سے قبل عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، اس دوران علاقائی پیش رفت، جنگ بندی اور امریکا و ایران کے درمیان جاری روابط کے تناظر میں اسلام آباد کے کردار پر بات کی گئی،اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ بقایا مسائل کے حل اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسلسل مکالمہ ناگزیر ہے ، ایرانی وزیر خارجہ نے اس سلسلے میں پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا،دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔عباس عراقچی کا سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد کے علاوہ مسقط اور ماسکو بھی جائیں گے ۔ انہوں نے لکھا کہ ان دوروں کا مقصد دو طرفہ امور پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ اور ہم آہنگی کرنا اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے ، ہمارے ہمسائے ہماری ترجیح ہیں۔ دریں اثنا اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہبازشریف سے رابطہ کیا اور پیش رفت سے آگاہ کیا، وزیراعظم نے ایرانی وفد کی آمد کواہم سفارتی پیشرفت قرار دے دیا، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے بدلتی صورتحال پر نظر رکھنے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم نے امن و استحکام کیلئے اہم پالیسی اور سفارتی ہدایات جاری کیں ۔
وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کے سفارتی روابط تیز اور مشاورت جاری رکھنے کی ہدایت کی ۔پاکستان نے امن کوششوں میں عالمی کردار مزید متحرک بنانے ، خطے میں کشیدگی کم کرنے ،اعتماد سازی اورمذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ۔اسلام آباد میں کئی تہوں پر مشتمل سکیورٹی کے انتظامات پہلے سے ہی موجود ہیں۔ایرانی وفد کی قیادت ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کررہے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق چونکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف کو اندرونی طور پر ایرانی وفد کا سربراہ اور وینس کا ہم منصب سمجھا جاتا ہے اس لئے ان کی غیرموجودگی میں جے ڈی وینس بھی مذکرات میں شریک نہیں ہورہے جبکہ امریکا کی لاجسٹک ، سکیورٹی ٹیم مذاکراتی عمل کیلئے اسلام آباد میں پہلے سے ہی موجود ہے ، دونوں ملکوں کے مزید وفود کی آمد کے سلسلے میں اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے ، توسیعی ریڈ زون دوبارہ سیل کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں ۔ ادھر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ نے کہا امریکا کا مشن اب نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ، اور ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ ایک اچھا اور دانشمندانہ معاہدہ کرے ۔ پیٹ ہیگسِتھ نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں۔ اور وہ کسی معاہدے کیلئے بے چین نہیں ہے ۔انہوں نے کہا ایران جانتا ہے کہ اس کے پاس اب بھی دانشمندی سے فیصلہ کرنے کا موقع موجود ہے ، اور اسے صرف یہ کرنا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ بامعنی اور قابلِ تصدیق طریقے سے ترک کرے ۔پیٹ ہیگسِتھ نے کہا امریکا نے ایران میں صرف چند ہفتوں میں فیصلہ کن عسکری نتیجہ حاصل کر لیا ہے اور اس کا تقابل ویتنام اور عراق جیسی دہائیوں پر محیط جنگوں سے کیا۔انہوں نے کہا کہ بالآخر ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے ’ اور انہوں نے اس مشن کو دنیا کے لیے ایک تحفہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحریہ کی جانب سے نافذ کی گئی ناقابلِ توڑ ناکہ بندی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے ۔حالیہ دنوں میں جن دو بحری جہازوں پر ایران نے فائرنگ کی اور جنہیں ضبط کیا گیا، وہ عام یا بے ترتیب جہاز تھے ،وہ نہ تو امریکی تھے اور نہ ہی اسرائیلی۔انہوں نے کہا کوئی بھی شخص جس کے پاس سپیڈ بوٹ، بندوق اور غلط ارادے ہوں، ایسا کر سکتا ہے ۔ ہیگسِتھ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو اختیار دے دیا ہے کہ اگر کوئی ایرانی تیز رفتار کشتیاں سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے یا آبنائے ہرمز میں آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں تو ‘انہیں تباہ کر دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم تباہ کرنے کے لیے فائر کریں گے ، کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا آبنائے ہرمز سے اب تک 34 بحری جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے ، آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے ، جب تک ضرورت ہوگی ناکہ بندی برقرار رہے گی، مزید بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوگی، آبنائے ہرمز کے معاملے پر یورپی ممالک کی سنجیدہ کوششوں کا خیر مقدم کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایران نے 45 ہزار مظاہرین کو قتل کیا۔امریکی وزیردفاع کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا ایرانی رہنماؤں کے بارے میں جانتے ہیں کہ ان کی زندگی کے طور طریقے کیا ہیں، وہ کیا سوچتے ہیں کیا کرتے ہیں کہاں جاتے ہیں سب معلوم ہے ۔
ہماری انٹیلی جنس مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کرتی ہے اس کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں ایران کے بارے میں سب کچھ جانتی ہیں، ایران کی لڑنے کی صلاحیت، ہتھیار، صنعتی اور معاشی نظام کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ اور گلوبل شپنگ پر ٹیکس عائد کرکے تنازع کو بڑھانا چاہتا ہے ، دو ایسے جہاز قبضے میں لیے گئے جو ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے تھے ۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل دنیا کو ہمارے جوہری پروگرام سے بلاوجہ ڈرا رہے ہیں اور ان کے خدشات کی کوئی بنیاد نہیں ۔ مذاکراتی عمل میں یہ خدشات کسی حد تک دور ہو گئے تھے اور اب تہران دوبارہ مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے ، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔مزید برآں امریکی وزارتِ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کردیں، تقریباً 40 کمپنیوں اور تیل بردار جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ،ان میں چینی پیٹروکیمیکلز کمپنی ،ہینگلی پیٹروکیمیکل (دالیان)ریفائنری کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ایران کا اس کمپنی کے ساتھ معاہدہ مرحلہ وار ختم کیا جا سکے گا۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا امریکاایرانی حکومت سے جڑی تمام مالی شہ رگوں کو نشانہ بنائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے تحت وزارتِ خزانہ 34.4 کروڑ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی کو بھی منجمد کر رہی ہے ۔