پاکستان سمیت 10ممالک غذائی عدم تحفظ کا شکار:اقوام متحدہ کی رپورٹ

پاکستان سمیت 10ممالک غذائی عدم تحفظ کا شکار:اقوام متحدہ کی رپورٹ

بنگلہ دیش،جمہوریہ کانگو، میانمار، نائجیریا ، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام،یمن بھی شامل،غزہ ، سوڈان کے بعض حصوں میں قحط فصلوں کی بوائی کے موسم میں آبنائے ہرمز کی بندش ،کھاد کی قیمتوں میں اضافہ،تنازعات سے حالات مزید خراب ہوسکتے توانائی اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا موجودہ جھٹکازرعی پیداوار پر یقیناً بہت بڑا اثر ڈالے گا،سربراہ ادارہ برائے زرعی ترقی

روم (اے ایف پی) اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں غذائی بحران کا سامنا کرنے والے  افراد میں سے دو تہائی صرف 10 ممالک میں رہتے تھے جبکہ ان میں سے ایک تہائی افراد سوڈان، نائجیریا اور جمہوریہ کانگو میں تھے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعات (جنگ اور بدامنی) اب بھی شدید غذائی قلت کی بڑی وجوہات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چونکہ تنازعات اور موسمی شدت آئندہ بھی کئی ممالک میں حالات کو برقرار رکھ سکتی ہیں یا مزید خراب کر سکتی ہیں، اس لیے 2026 کا منظرنامہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید غذائی عدم تحفظ اب بھی زیادہ تر 10 ممالک تک محدود ہے جن میں افغانستان، بنگلہ دیش، جمہوریہ کانگو، میانمار، نائجیریا ، پاکستان، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام اور یمن شامل ہیں، بنگلہ دیش اور شام جیسے کچھ ممالک میں بہتری آئی لیکن یہ بہتری تقریباً افغانستان، جمہوریہ کانگو، میانمار اور زمبابوے میں حالات کی خرابی سے ختم ہو گئی۔

اس رپورٹ کے دسویں ایڈیشن میں پہلی بار ایک ہی سال میں دو مختلف علاقوں غزہ اور سوڈان کے بعض حصوں میں قحط کی تصدیق کی گئی ہے ، رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 26 کروڑ 60 لاکھ افراد 47 ممالک یا خطوں میں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے ، جو 2016 کے مقابلے میں تقریباً د وگنا ہے ،رپورٹ میں بین الاقوامی امداد میں تیزی سے کمی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور خبردار کیا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ پہلے سے موجود بحرانوں کو مزید سنگین بنا سکتی ہے ،اہم تیل بردار جہازوں کی گزر گاہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کھاد کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں کیونکہ کھاد کی تیاری میں تیل پر انحصار کیا جاتا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے زرعی ترقی (IFAD) کے سربراہ الوارو لاریو نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اس وقت فصلیں بونے کا موسم ہے ، اس لیے توانائی اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا موجودہ غذائی جھٹکا پیداوار پر یقیناً بہت بڑا اثر ڈالے گا۔ انہوں نے چھوٹے کسانوں کی زیادہ مدد کرنے پر زور دیا، مثلاً ایسے بیجوں اور فصلوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے جو پانی کی کمی اور موسمی تبدیلیوں کا بہتر مقابلہ کر سکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں